غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) آزاد طبی اور انسانی تنظیم ’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اس کی ایک بس جو انسانی ہمدردی کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں کو لے کر جا رہی تھی، شہر غزہ میں ایک حملے کا نشانہ بنی، جس کے نتیجے میں اس کے عملے کا ایک فرد زخمی ہو گیا۔
تنظیم نے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے شائع کردہ ایک بیان میں کہا کہ جب بس پر حملے کے نتیجے میں نقصان پہنچا تو اس میں اس کے عملے کے 10 افراد سوار تھے، اور اس نے حملے کے دوران عملے کے ایک کارکن کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔
’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ نے اس بات پر زور دیا کہ گاڑی کی چھت پر تنظیم کا لوگو واضح طور پر درج درج تھا، جو اس کی شناخت اور پہچان کو ممکن بناتا ہے۔
تنظیم نے اس حملے کو انسانی اور طبی شعبے کے کارکنوں کی سلامتی سے ”صریح لاتعلقی“ قرار دیا، اس بات کی تصدیق کی کہ قابض اسرائیل کی فورسز نے ”ایک بار پھر انسانی شعبے کے کارکنوں اور طبی عملے کی سلامتی سے صریح لاتعلقی کا مظاہرہ کیا ہے“۔
بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ”غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے“ اس نے شہریوں، طبی اور امدادی شعبے کے کارکنوں کے تحفظ کا مطالبہ دہرایا، نیز ان کی انسانی ذمہ داریاں نبھانے کے دوران ان کی سلامتی کی ضمانت دینے پر زور دیا۔
تنظیم نے بین الاقوامی قانون کے احترام اور واضح لوگو والی طبی اور امدادی گاڑیوں کو نشانہ نہ بنانے کا بھی مطالبہ کیا، انسانی اور طبی شعبے کے کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ حملہ غزہ پر قابض اسرائیل کی جارحیت کے تسلسل کے دوران سامنے آیا ہے، جبکہ شہریوں، انسانی اور امدادی شعبے کے کارکنوں کی سلامتی کے حوالے سے مسلسل بین الاقوامی انتباہات جاری کیے جا رہے ہیں، ایسے وقت میں جب امدادی اداروں اور طبی عملے کو پٹی کے اندر کام کرنے کے دوران مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔
آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء سے، قابض اسرائیل امریکہ کی حمایت کے ساتھ غزہ پر نسل کشی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 74 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔
