Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

ایندھن کی قلت نے غزہ کے 13 طبی اداروں کو بندش کے خطرے سے دوچار کر دیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کا طبی نظام ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جہاں 13 فلاحی و طبی اداروں کو ایندھن کی سپلائی معطل ہونے کے قریب ہونے کی وجہ سے صحت کا شعبہ ایک ہولناک انسانی اور طبی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس سے سرجری، زچگی اور زخمیوں کی دیکھ بھال کی خدمات شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

فلسطینی وزارتِ صحت نےسخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ فلاحی طبی اداروں کو آنے والے 19 ستمبر سے ایندھن کی فراہمی بند کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔

وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل برائے انتظامی امور محمود حماد نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس فیصلے سے زندگی بچانے والی بنیادی خدمات جیسے کہ آپریشن تھیٹرز، زچگی کے شعبے اور مسلسل لائے جانے والے زخمیوں کی دیکھ بھال کو براہ راست خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں اور متعلقہ فریقوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں اور ایندھن کی بندش کے اس فیصلے کو واپس کروائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اداروں کا تحفظ اور ان کے کام کا تسلسل بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک بنیادی حق ہے۔

یہ تازہ بحران پہلے سے موجود سنگین طبی قلت میں مزید اضافہ کر رہا ہے، جس کی چند نمایاں تفصیلات درج ذیل ہیں:

آکسیجن کے کل 34 پلانٹس میں سے 22 پلانٹس مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ آکسیجن سلنڈر بھرنے والے 30 میں سے 26 آلات کام کرنا چھوڑ چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ پلانٹس اور آلات اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ جنریٹروں کے لیے تیل اور اسپیئر پارٹس کی قلت کی وجہ سے کچھ طبی مراکز کے کام کے اوقات میں 70 سے 80 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ موٹرز اور جنریٹر کے انجن آئل (لبریکنٹ) کے ایک لیٹر کی قیمت 1,300 ڈالر سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

بجلی کی بندش اور سڑکوں کی تباہی کی وجہ سے ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز کم ترین صلاحیت پر کام کر رہے ہیں اور طبی عملے کو خاص طور پر رات کے وقت شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ 13 فلاحی ادارے شہریوں اور مہاجرین کو مفت یا انتہائی معمولی فیس پر ابتدائی اور ثانوی درجے کی طبی دیکھ بھال فراہم کرتے ہیں، لہٰذا ایندھن کی بندش نوزائیدہ بچوں کے انکیوبیٹرز، انتہائی نگہداشت کے یونٹس (ICU) اور ایمرجنسی کلینکس کے لیے ایک براہ راست موت کا پروانہ ہے۔

وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کے ہسپتالوں میں سے 38 میں سے 26 ہسپتال پہلے ہی مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ ان کی گنجائش سے 130 فیصد تجاوز کر چکا ہے۔

اس کے علاوہ گوداموں میں بنیادی ادویات کا 47 فیصد اور لیبارٹری ٹیسٹ کے مواد کا 87 فیصد حصہ بالکل ختم (صفر کی سطح پر) ہو چکا ہے۔ پناہ گزینوں میں متعددی اور جِلدی امراض کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی طبی خدمات کی ضرورت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور ایندھن کے فقدان کی وجہ سے ان اداروں کی بندش اس انسانی المیے کو کئی گنا بڑھا دے گی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan