دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے بیرونِ ملک قومی تعلقات کے شعبے کے سربراہ علی برکہ نے کویت میں “قومی کونسل کی رکنیت کے لیے فلسطینی برادری کے نمائندوں کے انتخابات” کے عنوان سے ہونے والے عمل کو “ایک انتخابی تماشا” قرار دیا ہے جو نہ تو حقیقی جمہوریت کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی برادری کے افراد کی حقیقی مرضی کو ظاہر کرتا ہے۔
اتوار کی شام ایک پریس بیان میں وضاحت کرتے ہوئے علی برکہ نے کہا کہ کویت میں مقیم فلسطینی برادری کو اپنے نمائندوں کا براہِ راست انتخاب کرنے کا حق نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مقصد کے لیے پہلے سے ایک الیکٹوریل کالج تشکیل دیا گیا تھا جس نے خود اپنے ہی ارکان میں سے دو اراکین کا انتخاب کر لیا۔
حماس کے رہنما نے اختیار کردہ اس طریقہ کار کو عوامی انتخابات کے بجائے بالواسطہ تقرری کے قریب تر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ کار برادری کے افراد کی اس امنگ کی عکاسی نہیں کرتا جس کے ذریعے وہ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہتے تھے۔
علی برکہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا اعتراض نامزد ہونے والے یا جیتنے والے اشخاص پر نہیں بلکہ اس طریقہ کار پر ہے جو اس عمل کے لیے اپنایا گیا، اور انہوں نے خبردار کیا کہ ان انتخابی کالجوں کو فلسطینی قومی کونسل کے انتخابات کے نتائج کو پہلے سے کنٹرول کرنے کا ذریعہ بنا دیا جانا انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی کونسل کی حقیقی قانونی حیثیت اور جواز عوام کی مرضی سے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ تقرریوں کے ذریعے یا بند کمروں میں بنے ہوئے انتخابی کالجوں کے اندر تیار کیا جاتا ہے۔
علی برکہ نے اس طریقہ کار پر نظرِ ثانی کرنے اور اسے بیرونِ ملک مقیم دیگر فلسطینیوں پر نافذ نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جہاں بھی ممکن ہو براہِ راست انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔
انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ اگر براہِ راست رائے شماری کا انعقاد ممکن نہ ہو تو ایسے باہمی اتفاق رائے اور شفاف طریقہ کار کا سہارا لیا جائے جو تمام قوتوں، رجحانات اور آزاد شخصیات کی شرکت کو یقینی بنائے تاکہ وہ قومی کونسل کے لیے فلسطینیوں کے نمائندوں کا منصفانہ انتخاب کر سکیں۔
