برسلز – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بیلجیئم کی وزیرِ پناہ گزین و ہجرت اینلین فان بوسویٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی حکومت نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 13 فلسطینی طلبا کو بیلجیئم میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے دوٹوک انکار کر دیا ہے، حالانکہ ان طلبا کے پاس باقاعدہ ویزے اور تعلیمی اسکالرشپس موجود ہیں، اس ظالمانہ فیصلے کی یہ عذرتراشا کیا گیا ہے کہ ان کی آمد سے خاندانی ملاپ یا پناہ کی درخواستوں کا دروازہ کھل سکتا ہے۔
اتوار کے روز پریس بیانات میں وضاحت کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ متاثرہ طلبا کی کل تعداد تیرہ ہے، جن میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو غزہ کی پٹی سے نکلنے کے لیے پچھلے تقریباً دو سال سے انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے نام نہاد “ڈومینو اثر” کا خوف ظاہر کرتے ہوئے انتباہ کیا کہ اگر ان طلبا کو آنے کی اجازت دی گئی تو اس سے ان کے اہل خانہ بھی اسی طرح کی درخواستیں دائر کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
وزیر نے اپنے اس غیر انسانی موقف کی یہ بھی توجیہ پیش کی کہ اس سے یمن، سوڈان اور افغانستان سمیت دیگر ممالک کے طلبا کی طرف سے بھی ایسے ہی مطالبات سامنے آنے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔
حکومتی تضادات اور جامعات کی تنقید
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بیلجیئم کی حکومت کو اس بات پر شدید تنقید کا سامنا ہے کہ حکمران اتحاد کے اندر غزہ کی پٹی سے طلبا اور محققین کے انخلا کے معاملے پر کوئی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا، جبکہ دوسری طرف بیلجیئم کی کئی مایہ ناز جامعات نے اس بات کا پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان طلبا کے محفوظ انخلا کے لیے ایک موثر اور عملی لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
واضح رہے کہ ان فلسطینی طلبا نے بیلجیئم کے معتبر تعلیمی اداروں، جن میں انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میڈیسن اور ہاسلت و انٹورپ کی یونیورسٹیاں شامل ہیں، سے باقاعدہ داخلے اور اسکالرشپس حاصل کیے تھے، لیکن پچھلے سال جون کے مہینے سے وہ محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی سے باہر نکلنے سے بالکل قاصر ہیں۔
ادھر بیلجیئم کے وزیرِ خارجہ کے ترجمان میکسم پریو نے اگست کے اواخر میں یہ واضح کیا تھا کہ غزہ سے کسی بھی نئے انخلا کے آپریشن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی مشترکہ حکومتی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا ہے، اور انہوں نے اشارہ کیا کہ سب سے بڑی رکاوٹ ویزے کے کاغذی ضابطے نہیں ہیں بلکہ غزہ کی پٹی سے عملی طور پر باہر نکلنے کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیلجیئم کا ویزہ پاسپورٹ میں موجود ہونے کے باوجود اس کا حامل اس محاصرے سے باہر نہیں نکل سکتا، کیونکہ اس وقت غزہ سے باہر نکلنا صرف کسی تیسرے ملک کی طرف سے منظم کردہ انخلا کے آپریشن یا عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے ہونے والے طبی انخلا کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
یاد رہے کہ غزہ کی پٹی سے ہونے والا آخری انخلا مارچ 2025ء میں عمل میں آیا تھا جس میں چوبیس (24) بیلجیئم کے شہری اور ایسے افراد شامل تھے جو بیلجیئم میں اقامتی حقوق رکھتے ہیں، اور انہوں نے کیرم شالوم (کرم أبو سالم) کی گزرگاہ کے راستے پٹی سے انخلا کیا تھا۔
