مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں مزاحمتی سکیورٹی کے ماتحت “رادع” فورس نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے مشیر محمود الہباش پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ان عناصر سے رابطہ کیا ہے جنہیں “غدار و کٹھ پتلی گروہ” قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ان کے بیانات ان “قابض قوتوں کی طرف سے مالی اعانت حاصل کرنے والے گروہوں کی حمایت کا کھلا اعتراف” ہیں۔ فورس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ کے تمام عوام ان گروہوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں، کیونکہ غزہ کے غیور عوام ہی ان کی غداری کی آگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
“رادع” نے جمعہ کے روز اپنے ٹیلیگرام چینل پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ان کے پاس “کٹھ پتلی گروہوں کے متعدد ارکان کی ریکارڈ شدہ شہادتیں” موجود ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ “الہباش اور ان گروہوں کے سرکردہ کارندوں کے درمیان رابطہ موجود تھا”۔ اس کے علاوہ “انہیں رام اللہ کے اسپتالوں میں علاج اور وہاں رہائشی فلیٹ خریدنے کی اجازت دینے جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں”۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ “ہمارے اندازوں کے مطابق الہباش اور دیگر سکیورٹی شخصیات کا ان غدار گروہوں کے ساتھ رابطہ قابض فوج کی براہ راست ہدایات پر ہے جو کہ بعض افراد کو ان گروہوں میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کی کوششوں کا حصہ ہے”۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “ان بیانات میں درج تفصیلات کے مطابق الہباش اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کا کٹھ پتلی گروہوں کے ساتھ رابطہ قومی سطح پر ایک سنگین جرم اور ایسا ناقابلِ تلافی داغ ہے، جس پر تحریک فتح کے باضمیر افراد کو اس حوالے سے واضح مؤقف اپنانے کی ضرورت ہے”۔
دوسری جانب ایک میڈیا انٹرویو کے دوران محمود الہباش کے بیانات پر غم و غصے اور تنقید کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ مبصرین کے نزدیک ان کا یہ بیان غزہ کی پٹی میں سکیورٹی کے نظام پر حملہ اور مزاحمتی کارروائیوں پر شک ظاہر کرنے کے مترادف تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے قانون شکنی کرنے والے مسلح گروہوں کے انضمام اور ان کی سرپرستی کے لیے دروازے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سے غزہ کی پٹی کے اندر افراتفری کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔
مزاحمتی حلقوں نے ان بیانات کو “صیہونی منصوبوں کے ساتھ صریح مطابقت” قرار دیا ہے، جن کا مقصد غزہ کی پٹی میں متوازی بازو تشکیل دینا اور قابض قوتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے افراتفری کی صورتحال سے فائدہ اٹھانا ہے۔
