مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) صیہونی قابض فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر دھاوے بول کر گھروں کی توڑ پھوڑ اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا، جس کے دوران ایک شہری پر تشدد، سڑکوں کی بندش، فائرنگ اور ساؤنڈ بموں کا استعمال کیا گیا۔ اس دوران صیہونی آباد کاروں کی جانب سے زرعی زمینوں پر حملے بھی کیے گئے۔
جنین شہر میں قابض فوج نے مشرقی محلے پر دھاوا بول کر ناصر السعدی کو گرفتار کر لیا، جبکہ عرب امریکن یونیورسٹی کے اقامتی علاقے میں کارروائی کے دوران عدوان الکروزو اور ان کی والدہ کو حراست میں لے لیا گیا۔
رام الله اور البیرہ کے علاقے میں قابض فوج نے رام کے مشرق میں واقع گاؤں المغیر کا واحد داخلی راستہ بند کر دیا، جس سے شہریوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ کفر مالک قصبے میں ایک گھر پر چھاپے کے دوران خالد غنيمات نامی نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔
طوباس کے علاقے میں قابض فوج نے طمون قصبے میں ایک گھر پر دھاوا بولا، جبکہ اس کے ساتھ ہی وادی الفارعہ کے علاقے میں بھی فوجی دستے داخل ہوئے۔
مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ میں قابض فوج نے انداد دھند فائرنگ اور ساؤنڈ بموں کا استعمال کیا، اور کیمپ کی سڑکوں پر فوجی اہلکار تعینات رہے۔
دوسری جانب، بیت لحم کے جنوب میں واقع علاقے “خلايل اللوز” میں صیہونی آباد کاروں نے فلسطینیوں کی زرعی زمینوں پر دھاوا بول دیا اور فصلوں و املاک کو نقصان پہنچایا۔
