غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کے فلسطینی باشندوں کو ان کے گھروں سے جبراً بے دخل کرنے سے متعلق سرکاری بیانات میں گذشتہ دنوں کے دوران شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ بیانات قابض اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی جانب سے ایک تفصیلی منصوبے کے منظرعام پر لانے کے بعد سامنے آئے ہیں جس کے تحت سات سال کے عرصے میں تقریباً اٹھارہ لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل قابض فوج کے وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے بھی ایسے ہی ایک ’تیار شدہ منصوبے‘ کی موجودگی کا اعتراف کیا تھا جس کے لیے صرف امریکی سبز جھنڈی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ایک تیار شدہ منصوبہ جسے امریکی منظوری کا انتظار
بدھ دو ستمبر سنہ 2026ء کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران یسرائیل کاٹز نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے نقطہ نظر سے غزہ کے مسئلے کا حقیقی حل اس وقت تک نامکمل ہے جب تک اس کے مکینوں کی بڑی تعداد کو ’زمینی، سمندری اور فضائی راستوں‘ سے باہر نہ نکال دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس رجحان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’منجمد‘ کر دیا گیا تھا لیکن اسے ’سرے سے میز سے ہٹایا نہیں گیا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیلی حکومت منظم ہے اور جس لمحے بھی نقل مکانی کی منزل کا تعین ہو گیا تو وہ تمام ممکنہ ذرائع سے اس قدم کو نافذ کرنے کے لیے تیار ہے۔
فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق کے مطابق یہ بیانات قابض اسرائیل کے فیصلہ سازی کے بلند ترین درجے کی طرف سے ’اس بات کا باضابطہ اعتراف اور اقرار ہیں کہ قابض ریاست فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کرنے کے مجرمانہ عزم پر پوری ڈھٹائی کے ساتھ قائم ہے‘۔ مرکز کا ماننا ہے کہ یہ بیانات اس بات کا پردہ فاش کرتے ہیں کہ جنگ بندی اور ٹرمپ کے امن منصوبے کے نام پر جو بین الاقوامی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے وہ دراصل ایک متوازی راستے کے لیے سیاسی پردہ پوشی ہے جس کا بنیادی ہدف غزہ کی پٹی کو اس کے باسیوں سے خالی کرانا ہے۔
بزلئیل سموٹريچ کا منصوبہ: ’علیحدگی کا منصوبہ 710‘
یسرائیل کاٹز کے بیانات کے ایک دن بعد دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت ’یہودی پاور ‘ کے سربراہ بزلئیل سموٹريچ نے عبرانی اخبار ’یدیعوت احروت‘ کے حوالے سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق تقریباً ڈیڑھ سال کے عرصے میں تیار کردہ ایک وسیع تر منصوبے کی تفصیلات پیش کیں۔ اس منصوبے کا نام ’علیحدگی کا منصوبہ 710‘ رکھا گیا ہے اور یہ بزلئیل سموٹريچ کی مبینہ ’رضاکارانہ ہجرت‘ کے نظریے پر مبنی ہے۔
اسرائیلی افشا کردہ معلومات کے مطابق اس منصوبے کا ہدف درج ذیل افراد کو باہر نکالنا ہے:
- نفاذ کے پہلے سال کے دوران دو لاکھ پچاس ہزار فلسطینی۔
- تین سال کے عرصے میں گیارہ لاکھ دس ہزار فلسطینی۔
- سات سال کے اندر اندر تقریباً اٹھارہ لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینی یعنی پٹی کی کل آبادی جو کہ بائیس لاکھ سے زیادہ ہے اس کا اسی فیصد سے زائد حصہ۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق یہ منصوبہ بارہ اصولوں پر مبنی ہے جن میں وہ طریقہ کار بھی شامل ہے جسے بزلئیل سموٹريچ ’رضاکارانه روانگی‘ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ کسی بھی شخص کو میزبان ملک اور منظم قانونی حیثیت کی موجودگی کے بغیر نہیں نکالا جائے گا۔ اس کی تفصیلات میں ہر فرد یا خاندان کے لیے منزل مقصود کا ملک فراہم کرنا، دستاویزات اور ویزے کا حصول، سفر اور ابتدائی رہائش کا مالی بندوبست کے علاوہ پیشہ ورانہ تربیت، ملازمت میں مدد اور چوبیس ماہ تک مالی معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ بزلئیل سموٹريچ کی یہ بھی نیت ہے کہ وہ ’رضاکارانہ ہجرت‘ نامی ایک الگ وزارت کے قیام کا مطالبہ کریں جس میں ایک وزیر، ایک ڈائریکٹر جنرل، ایک بجٹ اور بین الاقوامی مذاکرات کے لیے ایک ٹیم شامل ہو۔
بزلئیل سموٹريچ نے کہا کہ ان کا ’خواب‘ لوگوں کو غزہ چھوڑنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بسوں، ہوائی جہازوں اور ایسے قافلوں کو دیکھنا چاہتے ہیں جو مکینوں کو پٹی سے باہر لے جائیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ ایک ’حقیقت پسندانہ‘ حل ثابت ہو سکتا ہے اور انہوں نے ایسے ممالک کے موجود ہونے کا بھی دعویٰ کیا جو غزہ کے مکینوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہیں مگر انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔
بزلئیل سموٹريچ اس منصوبے کو قابض اسرائیل میں متوقع انتخابات سے قبل اپنی انتخابی مہم کا ایک مرکزی نکتہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اسے مستقبل کی کسی بھی حکومتی اتحادی حکومت میں شامل ہونے کے لیے ایک لازمی شرط کے طور پر قبول کرایا جا سکے۔
اسرائیلی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیت یاھو نے ماضی میں عوامی سطح پر ’رضاکارانہ ہجرت‘ کے خیال کی ترویج کے باوجود اس درجے کے کسی بھی قدم پر بند دروازوں کے پیچھے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
میدانی پس منظر: پٹی کے ساٹھ فیصد رقبے پر غاصبانہ تسلط
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بنجمن نیتن یاھو نے غزہ کی پٹی کے خفیہ دورے کے دوران اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض افواج پٹی کے رقبے کے تقریباً ساٹھ فیصد حصے پر قابض ہیں اور وہ ان علاقوں سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ کاٹز کے باقی ماندہ مکینوں کی جبری بے دخلی کے بیان اور نیتن یاھو کے زمین پر جبراً قبضے کے بیان کا امتزاج اس بات کا واضح اعلان ہے کہ ’غزہ کی پٹی کی جغرافیائی اور ڈیموگرافک سرے سے انجینئرنگ کرنے کا ایک واضح اور گھناؤنا منصوبہ موجود ہے‘ جو فوج کے انخلا یا تعمیر نو کے بارے میں کسی بھی اعلانیہ عہد کے بالکل منافی ہے۔
شہداء کی تعداد اور محاصرے کی ہولناک حقیقت
فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں اس امر کی نشان دہی کی ہے کہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پٹی کے کل تقریباً بائیس لاکھ مکینوں میں سے تہتر ہزار چار سو ستر فلسطینی شہید اور ایک لاکھ چوہتر ہزار پانچ سو چالیس زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کل آبادی کا تقریباً بارہ فیصد بنتے ہیں یعنی تین سال سے بھی کم مدت میں ہر نو میں سے ایک شخص شہید یا زخمی ہوا ہے۔
مرکز اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اب تک پٹی میں تعمیر نو کا کوئی بھی عملی عمل شروع نہیں ہو سکا جبکہ عمارتوں کے اسی فیصد سے زیادہ حصے کو تباہ کیے جانے کے باوجود تعمیراتی مواد کے داخلے پر سخت ترین پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔ یہ ادارہ اس جانب بھی توجہ مبذول کرواتا ہے کہ بائیس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو پٹی کے صرف تیس فیصد رقبے تک محدود کر دیا گیا ہے جبکہ انروا کے اداروں کے کام اور انسانی امداد کی فراہمی کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
حقوقی ردعمل: مکینوں کو جبراً منتقل کرنے کا گھناؤنا جرم
فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق کا ماننا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کی کوئی بھی کوشش خواہ وہ براہ راست طاقت کے ذریعے ہو یا ’رضاکارانہ‘ میکانزم اور وقتی انسانی حیلوں کے ذریعے ہو، یہ سب بین الاقوامی فوجداری عدالت کے بانی روم قواعد کے تحت مجرمانہ قرار دیے گئے جبری منتقلی کے زمرے میں آتی ہے۔
مرکز نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان پے درپے بیانات کو نسل کشی اور بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی کی سب سے بڑی کارروائی کے ایک قبل از وقت انتباہ کے طور پر پوری سنجیدگی سے لے اور ان جرائم کے ذمہ داران کا محاسبہ کرے نہ کہ محض زبانی مذمت پر اکتفا کرے۔
مرکز نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ جبری نقل مکانی کے تسلسل کا باعث بننے والے تمام اقدامات کو روکا جا سکے، پناہ اور تعمیر نو کے سامان نیز ملبہ ہٹانے والی مشینری کے داخلے پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے، شہریوں کو ان کے علاقوں میں محفوظ، رضاکارانہ اور پروقار واپسی کی ضمانت دی جائے اور انہیں اپنے گھروں اور زندگیوں کی بحالی کے لیے معاشی طور پر بااختیار بنایا جائے۔
سیاسی پس منظر: جنگ کے آغاز سے ہی ’رضاکارانہ ہجرت‘ کا ایجنڈا
یہ بیانات اس اعلانیہ خطابت سے الگ نہیں ہیں جنہیں غزہ پر جنگ کے پہلے ہفتوں سے ہی قابض اسرائیل میں دستاویزی شکل دی گئی تھی جب جبری انخلا کے غیر قانونی احکامات کے ساتھ بے دخلی کی آوازیں اٹھائی گئی تھیں جن میں غزہ اور شمالی گورنری کے علاقے شامل تھے اور پھر یہ سلسلہ خان یونس اور رفح کے مشرقی علاقوں تک پھیل گیا جس کے نتیجے میں عملی طور پر پٹی کے مکینوں کی غالب اکثریت اندرونی طور پر بے گھر ہو گئی۔
نسل کشی کی جنگ کے تین سال گزر جانے کے بعد قابض اسرائیل کے اعلیٰ ترین سکیورٹی اور سیاسی عہدیداروں کی زبان پر ہو بہو وہی الفاظ دہرائے جا رہے ہیں۔ اس بار یہ سب کچھ ایک تحریری منصوبے کی شکل میں سامنے آیا ہے جس کے مخصوص زمینی اہداف، وقت کا تعین، فنڈنگ اور مجوزہ حکومتی ڈھانچہ موجود ہے ۔ یہ سب کچھ اسرائیلی انتخابی دوڑ کے تناظر میں ہو رہا ہے۔
بے دخلی کے منصوبوں کے خلاف فلسطینیوں کا سرزمین کے ساتھ آہنی عزم
خطابت اور منصوبہ بندی کی سطح پر قابض اسرائیل کی اس مسلسل جارحیت کے مقابلے میں فلسطینی اپنی زمین کے ساتھ چمٹے رہنے اور جبری بے دخلی کی تمام سازشوں کو خاک میں ملانے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔ وہ اس کا عملی ثبوت زمین پر دے رہے ہیں محض زبانی جمع خرچ پر اکتفا نہیں کر رہے۔
اس استقامت کا ایک روشن ترین مظہر یہ ہے کہ مصر میں مقیم سیکڑوں فلسطینی خاندانوں نے غزہ کی پٹی میں اپنے علاقوں کو واپس لوٹنے کے لیے اپنے ناموں کا اندراج شروع کر دیا ہے بلکہ ان میں سے بعض نے تو تباہ حال گھروں اور بنیادی ڈھانچے کے ہولناک مناظر اور واپسی کے راستوں نیز خود پٹی کے اندر موجود خطرناک حالات کے باوجود اپنے گھروں کو محفوظ طریقے سے واپس پہنچنے کا ذریعہ حاصل کرنے کے لیے بھاری رقوم تک ادا کی ہیں۔
ماہرین اس منظر نامے میں یہ واضح عوامی پیغام پڑھ رہے ہیں کہ فلسطینی قتل و غارت، بربریت اور محاصرے کے باوجود اپنی زمین پر رہنے کے حق سے آج بھی مضبوطی کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں اور یہی عزم کسی بھی ’رضاکارانہ ہجرت‘ کے منصوبے کو عملی میدان میں اس کے حقیقی مفہوم سے تہی دامن کر دیتا ہے۔
