مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شمالی مغربی کنارے میں صیہونی فوج کے عسکری آپریشن “آئرن وال” کے آغاز کو ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن جنین، طولکرم اور نور شمس کے کیمپوں سے بے گھر ہونے والے 33 ہزار سے زائد فلسطینی اب بھی اپنے گھروں کو واپس جانے سے قاصر ہیں اور ان کی واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔
جمعہ کے روز جاری کردہ اپنی ایک نئی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (UNHCR) نے انکشاف کیا ہے کہ قابض فوج نے جنوری اور فروری 2025ء کے دوران تینوں کیمپوں کے مکینوں کو زبردستی بے گھر کیا اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اب تک انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی۔
تباہی اور نظامی نقل مکانی
رپورٹ کے مطابق یہ جبری نقل مکانی محض عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس میں سیکڑوں گھروں کی مسماری، بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، پانی اور بجلی کے نظام کی تباہی، امداد کی فراہمی پر پابندی اور گھر گھر تلاشی کے وہ ہتھکنڈے شامل ہیں جنہوں نے مکینوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔
اکتوبر 2025ء کے اواخر تک جنین کیمپ کے 52 فیصد، نور شمس کے 48 فیصد اور طولکرم کیمپ کے 36 فیصد تنصیبات یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا تھا۔
مہاجرین کے بڑھتے ہوئے مالی اور معاشرتی بحران
گھروں کی محرومی کے علاوہ ان دسیوں ہزار مہاجرین کو شدید ترین سماجی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ کیمپ جو کہ ان کی روزمرہ زندگی، تعلیم اور روزگار کا مرکز تھے، اب ان کے لیے بند ہو چکے ہیں۔ بیشتر خاندان قریبی شہروں اور قصبوں میں مہنگے کرایوں پر گھر لینے پر مجبور ہیں، جبکہ آمدنی کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، جنین کیمپ سے بے گھر ہونے والے ایک خاندان نے نقل مکانی کے بعد گھر کا کرایہ ادا کرنے اور روزگار نہ ہونے کے باعث جن شدید مشکلات کا سامنا کیا، وہ اس بحران کی سنگین تصویر کشی کرتے ہیں۔
انسانیت کے خلاف جرم کا خدشہ
رپورٹ کا سب سے اہم اور خطرناک نکتہ یہ ہے کہ 33 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی یہ طویل اور منظم نقل مکانی اب محض انسانی بحران نہیں رہی، بلکہ یہ “جبری نقل مکانی” کے زمرے میں آتی ہے جو کہ انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ٹرک (Volker Türk) نے واضح کیا کہ اس کارروائی کا اصل مقصد زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے “باہر نکالنا” اور صیہونی بستیوں کی توسیع کے لیے زمین خالی کرانا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے قابض ریاست سے مطالبہ کیا کہ وہ مزید فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے تمام اقدامات فوری طور پر بند کرے۔
شمالی مغربی کنارے کے کیمپوں کی یہ صورتحال اب ایک عقبی عسکری سانحے سے نکل کر ایک مستقل سیاسی اور قانونی سوال بن چکی ہے کہ آیا یہ جبری اخراج عارضی ثابت ہوگا، یا پھر یہ مستقل حقیقت بن کر شمالی مغربی کنارے کے آبادیاتی اور جغرافیائی نقشے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دے گا؟
