Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کے مریضوں پر سفری پابندیاں، سرحدی گزرگاہوں کی بندش نے بحران سنگین کردیا

غزہ، (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) میڈیکل ریفرلز کمیٹی نے جمعرات کے روز تصدیق کی ہے کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح سرحدی گزرگاہ کے ذریعے مریضوں کی طے شدہ روانگی منسوخ کردی گئی ہے، کیونکہ ضروری رابطہ کاری اور اجازت دستیاب نہیں ہوسکی۔

کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ”دو ہفتوں کے دوران یہ تیسری منسوخی ہے۔ اس عرصے میں طے شدہ چھ روانگیوں میں سے مریض صرف تین مرتبہ ہی سفر کرسکے۔“

کمیٹی کے مطابق روانگیوں کی منسوخی کے باعث علاج کے محتاج مریضوں کے علاج میں تاخیر ہورہی ہے، انتظار کی فہرست میں شامل افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے اور بار بار سفر ملتوی ہونے سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ سفری فہرستیں تیار کرنا اور طبی کیسز کا جائزہ لینا اس بات کا مطلب نہیں کہ گزرگاہ کھولنے، اجازت نامے جاری کرنے یا سکیورٹی رابطہ کاری کا اختیار کمیٹی کے پاس ہے۔

کمیٹی نے کہا، ”رابطہ کاری نہ ہونے کے نتیجے میں ہونے والی کسی بھی منسوخی یا تاخیر پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔“

اس نے مزید کہا، ”ہم امید کرتے ہیں کہ شہری ان حالات کو سمجھیں گے اور ایسے اقدامات اور فیصلوں کی ذمہ داری کمیٹی پر عائد نہیں کریں گے جو اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔“

فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے غزہ میں ترجمان رائد النمس نے اس سے قبل رفح گزرگاہ کی وقفے وقفے سے جاری بندش کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے مریضوں اور زخمی فلسطینیوں کی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزرگاہ کھولے جانے کے اوقات میں بھی باہر جانے کی اجازت پانے والے افراد کی تعداد غزہ کی طبی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

النمس نے سابقہ پریس بیانات میں وضاحت کی تھی کہ مریضوں کا سفری انتخاب فلسطینی وزارت صحت اور عالمی ادارۂ صحت کے درمیان رابطہ کاری کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس میں مریضوں کی طبی حالت کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی تشویشناک کیسز کو ترجیح دی جاتی ہے۔

”منصوبہ بند بھوک“

ایک متعلقہ پیش رفت میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کا محاصرہ مزید سخت کر رہا ہے، سرحدی گزرگاہیں بند کررہا ہے اور انسانی امداد کی آمد کے ساتھ ساتھ رفح کے راستے سفر کرنے کی اجازت پانے والے افراد کی تعداد کو بھی محدود کررہا ہے۔

قاسم نے اپنے سابقہ بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے رفح گزرگاہ بند کردی ہے جبکہ انسانی امداد کی غزہ میں آمد پر بھی شدید پابندیاں برقرار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل امدادی ٹرکوں کی طے شدہ تعداد کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے میں ناکام رہا اور نصف سے بھی کم ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی، جبکہ سفر کرنے والے افراد کی تعداد کو بھی محدود کیا جارہا ہے۔

قاسم نے اسرائیل پر غزہ میں ”منصوبہ بند بھوک“ کی پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھوک میں اضافے کے ساتھ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جبکہ بمباری اور فلسطینیوں کے قتل سمیت جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں، جن میں اسی روز کیے گئے حملے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال اسرائیل کی جانب سے منظم خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتی ہے، جس کے خاتمے اور دو سالہ نسل کشی کے بعد غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے ثالثوں، ضامن ریاستوں اور نام نہاد ”بورڈ آف پیس“ کی جانب سے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

غزہ کے حکومتی میڈیا دفتر کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل الثوابتہ نے بھی کہا کہ سرحدی گزرگاہوں، بالخصوص رفح کی مسلسل بندش کے باعث غزہ کی پٹی میں انسانی بحران غیر معمولی اور بے مثال سطح تک پہنچ چکا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan