Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ میں ملبے تلے دبے ہزاروں افراد، مزید 55 لاشیں برآمد

غزہ، (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی نسل کش جنگ کے دوران تباہ ہونے والے گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے دبے فلسطینیوں کی لاشوں کی تلاش اور برآمدگی کا عمل بدستور جاری ہے۔

تاہم بھاری مشینری اور ضروری آلات کی شدید قلت کے باعث سول ڈیفنس کے اہلکار بڑی تعداد میں ان متاثرین تک پہنچنے سے قاصر ہیں، حتیٰ کہ ان علاقوں پر حملوں کو طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی۔

فلسطینی سول ڈیفنس کے اہلکاروں نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع الزیتون محلے میں المالکہ خاندان کی ایک عمارت کے ملبے سے 55 لاشیں اور انسانی باقیات برآمد کی ہیں۔ یہ عمارت اسرائیلی بمباری سے جان بچانے کے لیے نقل مکانی کرنے والے درجنوں فلسطینیوں کو پناہ دے رہی تھی۔

امدادی ٹیمیں مسلسل تیسرے روز بھی جائے وقوعہ پر تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق عمارت کے ملبے تلے 60 سے زائد لاشیں اب بھی دبی ہوسکتی ہیں۔

لاشوں کی برآمدگی کی کارروائی کے ذمہ دار سول ڈیفنس کے عہدیدار محمد ابو دان نے بتایا کہ اہلکاروں نے زیادہ تر لاشیں برآمد کرلی ہیں، جنہیں آئندہ ہفتے کے آغاز میں متوقع اجتماعی جنازے کی تیاری کے لیے منتقل کیا جا رہا ہے۔ ملبے تلے پھنسے دیگر افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔

یہ کارروائی غزہ بھر میں جاری ایک کہیں بڑے انسانی المیے کی صرف ایک جھلک ہے۔ سول ڈیفنس کے مطابق تقریباً 10 ہزار لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ یہ تعداد حتمی نہیں سمجھی جاتی کیونکہ بہت سے متاثرین تک رسائی ممکن نہ ہونے کے باعث انہیں سرکاری طور پر درج نہیں کیا جاسکا۔

سول ڈیفنس کے سابقہ اندازوں میں بھی بتایا گیا ہے کہ 10 ہزار سے زائد لاپتا فلسطینی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور ان کی لاشیں اسپتالوں تک نہ پہنچنے کے باعث غزہ کی وزارت صحت کے سرکاری شہادتوں کے اعداد و شمار میں شامل نہیں ہوسکیں۔

ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے

اتنی بڑی تعداد میں لاشوں کی برآمدگی کی کوششیں انتہائی مشکل زمینی حالات میں جاری ہیں۔ امدادی ٹیموں کو بھاری مشینری اور خصوصی آلات کی شدید قلت کا سامنا ہے، جو کنکریٹ کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو ہٹانے اور ملبے تلے دبے افراد تک پہنچنے کے لیے ضروری ہیں۔ غزہ میں خصوصی آلات کی رسائی بھی محدود کردی گئی ہے۔

سول ڈیفنس کے اہلکار انتہائی محدود وسائل کے ساتھ سیکڑوں ٹن ملبے کا سامنا کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کام کے لیے کھدائی کرنے والی مشینیں، بلڈوزر، ٹرک اور دیگر بھاری آلات درکار ہیں جو ملبہ اٹھانے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، لیکن اس وقت دستیاب مشینری غزہ بھر میں ہونے والی تباہی کے وسیع پیمانے کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ کام مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ طویل عرصے تک ملبے تلے دبے رہنے والی لاشیں گل سڑ جاتی ہیں اور کئی مواقع پر صرف انسانی باقیات ہی باقی رہ جاتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں امدادی کارکنوں کو متاثرین کی باقیات تلاش کرنے اور نکالنے کے لیے انتہائی محنت طلب دستی کارروائی کرنا پڑتی ہے، جبکہ بھاری مشینری کی دستیابی کی صورت میں ملبہ زیادہ تیزی سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

سول ڈیفنس کے حالیہ اعداد و شمار اس کی تباہ شدہ عملی صلاحیت کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ادارہ اپنی تقریباً 85 فیصد مشینری سے محروم ہوچکا ہے اور جنگ سے قبل کی صلاحیت کے صرف 5 سے 7 فیصد پر کام کر رہا ہے۔ 2026 کے آغاز تک اس کے اہلکار ان ہزاروں افراد میں سے صرف تقریباً 350 لاشیں برآمد کر سکے تھے جو ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

امدادی ٹیموں کو تباہ شدہ اور غیر مستحکم عمارتوں میں کام کرتے ہوئے مسلسل خطرات کا بھی سامنا ہے۔ تلاش، امداد اور لاشوں کی برآمدگی کی کارروائیوں کے دوران سول ڈیفنس کے درجنوں اہلکار جاں بحق یا زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ اہلکار غیر محفوظ اور خطرناک ملبے سے بھرے مقامات پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

موجودہ لاشوں کی تلاش اور برآمدگی کا عمل 800 گھنٹے کی عملی معاونت پر مشتمل ایک منصوبے کے تحت جاری ہے، جس میں بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے ساتھ رابطہ بھی شامل ہے۔ تاہم غزہ میں ہونے والی وسیع پیمانے کی تباہی اور سول ڈیفنس کو درپیش وسیع ذمہ داری کے مقابلے میں یہ صلاحیت انتہائی محدود ہے۔

خاندان اب بھی اپنے پیاروں کے منتظر

ایک ہی عمارت کے ملبے سے 55 لاشوں کی برآمدگی اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتی ہے جو پوری غزہ کی پٹی میں پھیلا ہوا ہے۔ ہزاروں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے لاپتا فلسطینیوں کی لاشیں اب بھی امدادی ٹیموں کی پہنچ سے دور ہیں، جبکہ بھاری مشینری اور خصوصی آلات کی کمی کے باعث ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی قسمت جاننے اور انہیں دفن کرنے سے محروم ہیں۔

ان خاندانوں کے لیے غزہ کی تباہی بمباری کے رکنے کے ساتھ ختم نہیں ہوئی۔ کئی ماہ اور بعض صورتوں میں کئی سال گزر سکتے ہیں، لیکن لاشیں برآمد نہیں ہوپاتیں۔ خاندان اپنے پیاروں کی قبر پر جانے، جنازہ ادا کرنے یا حتیٰ کہ اس بات کی حتمی تصدیق سے بھی محروم رہتے ہیں کہ ان کے عزیز کہاں دفن ہیں۔

غزہ کے ملبے تلے ہزاروں لاشیں اب بھی موجود ہیں، جو تباہی کے وسیع پیمانے کی گواہی دے رہی ہیں، جبکہ امدادی کارکن ان تک پہنچنے کے لیے درکار مشینری کے منتظر ہیں۔

ان خاندانوں کے لیے لاشوں کی برآمدگی محض تباہ شدہ عمارتوں سے انسانی باقیات نکالنے کا عمل نہیں، بلکہ اپنے پیاروں کو ان ملبوں سے نکالنا ہے جو ان کی بے اختیار قبریں بن گئے، انہیں باعزت تدفین دینا اور کئی ماہ یا برسوں کے انتظار کے بعد آخرکار اپنے عزیزوں کو الوداع کہنا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan