Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال، اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کے آثار؟

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکہ کے اندر قابض اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنانے کا دائرہ کار اب صرف غزہ کی پٹی کی جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے زیادہ واضح انداز میں غرب اردن میں اس کی پالیسیوں بالخصوص یہودی آبادکاروں کی غنڈہ گردی، غاصبانہ کوریڈور اور پھیلاؤ ،فلسطینیوں کو درپیش مظالم کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔

واشنگٹن کے اندر سیاسی دباؤ میں اضافے کی تازہ ترین علامت کے طور پر امریکی سینیٹ کے پینتالیس (45) ڈیموکریٹ ارکان نے قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کی غنڈہ گردی کو روکنے اور سنہ 2022ء سے اب تک یہودی آبادکاروں یا قابض افواج کے ہاتھوں نو امریکی شہریوں کے قتل کی تحقیقات کے لیے فوری اقدامات کریں۔

یہ مکتوب جس کی قیادت سینیٹر ایڈم شف، چک شومر اور کوری بوکر نے کی امریکی سیاسی ادارے کے اندر اس تشویش کے دائرہ کار کے پھیلاؤ کی عکاسی کرتا ہے جو غرب اردن میں رونما ہونے والے حالات سے متعلق ہے جبکہ گذشتہ برسوں کے دوران امریکی توجہ کا مرکز بڑی حد تک غزہ کی جنگ پر مرکوز رہا تھا۔

سینیٹ کے ارکان نے بنجمن نیتن یاھو سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو واضح ہدایات جاری کریں تاکہ یہودی آبادکاروں کی طرف سے کیے جانے والے حملوں میں مداخلت کی جا سکے جن میں فلسطینیوں اور مساجد پر ہونے والے حملے بھی شامل ہیں اور انہوں نے غرب اردن میں قائم کردہ غیر قانونی بستیوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

غرب اردن امریکی توجہ کے دائرے میں داخل ہو رہا ہے

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غرب اردن کو یہودی آبادکاروں کی غنڈہ گردی اور قابض اسرائیلی اقدامات میں تیزی کا سامنا ہے جو غاصبانہ بستیوں کے پھیلاؤ، زمینوں پر قبضے اور جبری انخلا اور نقل مکانی کے عمل کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک گذشتہ بیان کردہ اور شائع شدہ تاریخی رپورٹ میں غرب اردن میں تیز رفتار تبدیلیوں پر روشنی ڈالی تھی جس میں بستیوں اور نو آبادیاتی مراکز کے پھیلاؤ اور ایسے بستیوں کے منصوبوں کی پیشرفت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا جو جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

اخبار نے اپنی ایک اور رپورٹ میں ایک فلسطینی نژاد امریکی خاندان کے معاملے کا بھی احاطہ کیا جس کا گھر غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کے محاصرے کا شکار ہوا تھا اور یہ ایسا فائل تھا جس نے امریکی شہریوں سے تعلق کی وجہ سے خصوصی امریکی توجہ حاصل کی۔

یہ امریکہ کے اندر اس مسئلے کی نوعیت میں ایک اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غرب اردن میں ہونے والی ناانصافیوں اور سفاکیت پر اب صرف ایک فلسطینی اسرائیلی تنازعے کے طور پر بحث نہیں کی جاتی بلکہ بعض صورتوں میں یہ امریکی شہریوں کے حقوق اور مفادات سے جڑا ہوا معاملہ بھی بن چکا ہے۔

کیا اس کا مطلب امریکی پالیسی میں تبدیلی ہے؟

ان تمام پیش رفتوں کی اہمیت کے باوجود قابض اسرائیل کے تئیں امریکی پالیسی میں مکمل تبدیلی کی بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

حالیہ اقدام بنیادی طور پر سینیٹ کے ڈیموکریٹ ارکان کی طرف سے سامنے آیا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا موقف زیادہ پیچیدہ ہے اور اب تک ایسے کافی اشارے موجود نہیں ہیں جو یہ کہنے کی اجازت دیں کہ واشنگٹن قابض اسرائیلی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کی جامع از سر نو تشکیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

تاہم جو چیز واضح طور پر بدل رہی ہے وہ امریکی سیاسی ادارے کے اندر تنقید کی گنجائش اور وسعت ہے۔

مکتوب پر دستخط کرنے والوں کی تعداد جو کہ پینتالیس (45) سینیٹرز تک پہنچ چکی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر انفرادی آوازوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سینیٹ میں اس کے بلاک کے اندر اسے وسیع حمایت حاصل ہو چکی ہے۔

اسی طرح تنقید کا تعلق صرف یہودی آبادکاروں کی غنڈہ گردی سے نہیں ہے بلکہ یہ قابض اسرائیلی گرفتاریوں اور بستیوں کے پھیلاؤ تک بھی پھیل چکی ہے جو قابض اسرائیل کی حمایت کی نوعیت اور ان حدود کے بارے میں ایک وسیع بحث کے لیے دروازہ کھولتی ہے جو واشنگٹن مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قابض اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے سامنے طے کر سکتا ہے۔

غزہ اور غرب اردن… ایک ہی پالیسی کے دو راستے؟

ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے اور جو کچھ غرب اردن میں جاری ہے ان دونوں کے درمیان تفریق کرنا اب زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ایسے وقت میں جب غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظامات کو اب بھی رکاوٹوں کا سامنا ہے غرب اردن بھی زمین پر قابض اسرائیلی اقدامات میں تیزی دیکھ رہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ قابض اسرائیل نے گذشتہ مدت کے دوران بڑے بستیوں کے منصوبوں کو آگے بڑھایا ہے جن میں ای ون (E1) علاقے کا پروجیکٹ بھی شامل ہے جو غرب اردن کے حصوں اور مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کے درمیان جغرافیائی رابطے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اس تناظر میں امریکی سوال خود فلسطینی کاز کے مستقبل سے زیادہ جڑ جاتا ہے: کیا واشنگٹن ایک ایسے سیاسی راستے کی حمایت کر سکتا ہے جو ایک فلسطینی ریاست کی طرف لے جائے جبکہ زمین پر غاصبانہ بستیوں کے پھیلاؤ اور غرب اردن میں جغرافیائی حقیقت کو بدلنے کے عمل جاری رہیں؟

سیاسی دباؤ یا اسٹریٹجک تبدیلی؟

ابھی تک اشارے قابض اسرائیل کے تئیں ایک مکمل امریکی اسٹریٹجک تبدیلی کے مقابلے میں سیاسی دباؤ میں اضافے کے زیادہ قریب دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم حالیہ پیش رفت کی اہمیت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ یہ اس امر کو بے نقاب کرتی ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے حلقوں اور قابض اسرائیلی حکومت کے درمیان خلیج وسیع ہو رہی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ غرب اردن کا مسئلہ امریکی سیاسی بحث میں ایک بڑا حصہ حاصل کرنا شروع کر رہا ہے۔

آنے والے مرحلے کے دوران سب سے اہم سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ کیا واشنگٹن یہودی آبادکاروں کی غنڈہ گردی پر تنقید کرے گا؟

بلکہ یہ ہوگا کہ کیا امریکی انتظامیہ تشویش کا اظہار کرنے سے ہٹ کر قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی آلات کے استعمال کی طرف منتقل ہوگی؟

اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ فلسطینی اسرائیلی تنازعے کے ساتھ امریکہ کے نمٹنے کے طریقے میں ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

اور اگر تنقید عملی اقدامات کے بغیر بیانات اور سیاسی خطوط تک محدود رہی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ امریکی بیان بازی اور غزہ اور غرب اردن میں فلسطینیوں کی طرف سے جھیلے جانے والے حقیقت کے درمیان خلیج برقرار رہے گی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan