تحریر : ظفر خان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) وینزویلا کے ساتھ امریکہ کے معاہدے سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اس ملک میں صرف تیل کی برآمدات کی اجازت دینے یا پابندیاں ختم کرنے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ایک ایسے ماڈل پر عمل درآمد کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت امریکہ وینزویلا کے آئل فیلڈز کی ملکیت یا ان کی ترقی میں براہِ راست حصہ لے سکتا ہے۔ ایکسیوس کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت وینزویلا کے حکام کے ساتھ ایسے معاہدے پر پیش رفت کر رہی ہے جس کے تحت امریکہ کو اس ملک کی آئل فیلڈز میں براہِ راست حصہ مل سکتا ہے۔
بعد ازاں رائٹرز، بلومبرگ اور وال اسٹریٹ جرنل سمیت دیگر ذرائع ابلاغ نے بھی ان رپورٹس کو اہمیت دی ہے۔ وینزویلا دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ زیرِ بحث رپورٹ میں اس ملک کی 17 اہم آئل فیلڈز کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب بیرل ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ یہ مقدار امریکہ کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر سے دو گنا سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔
تاہم، بعد کی اطلاعات میں اس معاہدے کی نوعیت کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے مطابق 17 اسٹریٹجک آئل فیلڈز اور 8 نئے بلاکس کی ترقی کے لیے امریکہ کے ساتھ 25 سالہ توانائی معاہدہ طے پایا ہے۔ امریکی فریق کو 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل ہوگا، جبکہ وینزویلا کی حکومت کا کہنا ہے کہ قدرتی وسائل کی ملکیت اور ملکی خودمختاری وینزویلا ہی کے پاس برقرار رہے گی۔
امریکی پالیسی میں تبدیلی، پابندیوں سے براہِ راست قبضے تک:
شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق حالیہ پیش رفت کی اہمیت صرف وینزویلا کو تیل برآمد کرنے کی اجازت دینے تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن نے وینزویلا کے تیل کے ذخائر کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرنا شروع کر دی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران امریکہ نے وینزویلا کی تیل کی تجارت کو محدود کرنے کے لیے زیادہ تر پابندیوں، برآمدی قدغنوں اور مخصوص معاملات میں جاری کیے جانے والے خصوصی لائسنسوں کا سہارا لیا۔
تاہم، تیل کے منصوبوں میں براہِ راست داخل ہونا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا کے تیل کے ذخائر کو امریکہ کے لیے ایک تزویراتی اثاثے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت عالمی تیل کی منڈی کے اعتبار سے بھی اہم ہے، کیونکہ وینزویلا کے پاس اپنے ذخائر کا ایک بڑا حصہ بھاری خام تیل کی شکل میں موجود ہے۔ اس ملک میں پیداوار میں اضافہ امریکی ریفائنریوں کے لیے درکار بھاری خام تیل کی فراہمی پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
بھاری خام تیل کی دوڑ:
شائع ہونے والے تجزیے کا ایک اہم پہلو امریکہ کو درکار بھاری خام تیل کی فراہمی کے ممکنہ راستے میں تبدیلی ہے۔ وینزویلا کا بھاری خام تیل اپنی فنی خصوصیات کے اعتبار سے بعض امریکی ریفائنریوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ان ذخائر تک رسائی میں اضافہ اس ملک کی ریفائنریوں کے لیے خام تیل کی فراہمی کے موجودہ توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں وینزویلا میں تیل کے شعبے سے متعلق پیش رفت کو محض واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان ایک تجارتی معاہدے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ یہ معاملہ امریکہ کی تیل کی فراہمی کے حصول کی کوشش، بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات اور واشنگٹن کی پابندیوں کی پالیسی سے بھی جڑا ہوا ہے۔
وینزویلا کا تیل دوبارہ عالمی منڈی میں:
اگر امریکی کمپنیوں کی جانب سے وینزویلا کی تیل کی صنعت میں سرمایہ کاری اور براہِ راست شمولیت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس سے درمیانی مدت میں وینزویلا کی تیل کی پیداوار میں اضافے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم، وینزویلا کی تیل کی پیداواری صلاحیت کو دوبارہ بلند سطح تک پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور طویل وقت درکار ہوگا۔ اسی وجہ سے اس پیش رفت کا قلیل مدت میں عالمی تیل کی قیمتوں پر ممکنہ اثر محدود رہے گا۔ اس کی اصل اہمیت کو سرمایہ کاری کے رخ میں تبدیلی اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
اوپیک اور نئی بدلتی ہوئی صورتحال:
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی تیل کی منڈی کا روایتی ڈھانچہ اور اوپیک کے رکن ممالک کا کردار نئے چیلنجز سے دوچار ہے۔ اوپیک سے باہر بعض ممالک کی جانب سے پیداوار میں اضافہ، بڑے صارف ممالک کی جانب سے تیل کی فراہمی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کی کوششیں اور مارکیٹ میں حصے کے حصول کی مسابقت نے عالمی سطح پر رسد کو منظم کرنے میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔
اگر امریکی سرمایہ اور کمپنیاں وینزویلا کی تیل کی صنعت میں داخل ہوتی ہیں تو آنے والے برسوں میں اس ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ عالمی تیل کی رسد اور طلب کے توازن کو متاثر کرنے والے ایک اور اہم عامل کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔ تاہم، اس منظرنامے کی عملی تعبیر وینزویلا اور امریکہ کی حکومتوں کے حتمی فیصلے، معاہدے کے قانونی ڈھانچے، پابندیوں کی صورتِ حال اور وینزویلا کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے درکار سرمایہ کاری کی مقدار پر منحصر ہوگی۔
اس بنیاد پر واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان ممکنہ مذاکرات کو امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے تیل کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔ یعنی تیل کو محض پابندیوں سے متعلق مسئلے کے بجائے امریکی توانائی پالیسی کے ایک تزویراتی عنصر میں تبدیل کرنا۔ اگر یہ تبدیلی عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات بھاری خام تیل کی عالمی منڈی اور لاطینی امریکہ کی تیل کی صنعت میں سرمایہ کاری کے رجحانات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔