Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

ایران پر امریکی حملوں میں شدت، 100 مقامات نشانے پر

تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کی ایک لہر مکمل کر لی ہے، جن میں فضائی دفاعی مقامات، ریڈار سسٹمز، بحری تنصیبات، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتیں اور مواصلاتی مقامات شامل تھے۔ جب کہ ایرانی میڈیا نے ہرمزگان گورنری، بوشہر، جزیرہ قشم اور آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق تازہ ترین امریکی حملوں نے تقریباً ایک سو اہداف کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے منظور کردہ ’’ٹینکر بہ مقابلہ ٹینکر‘‘ کی پالیسی کے تحت پہلی بار ایران کے دو سرکاری تیل بردار ٹینکروں پر حملہ بھی شامل تھا۔

ایران کا جوابی وار

دوسری طرف پاسداران انقلاب نے اردن کے الأمير حسن بیس پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون طیاروں کے ہینگرز پر شدید بیلسٹک میزائل حملے کا اعلان کیا اور متعدد پائلٹوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا۔ اس کے علاوہ اربیل میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا بھی اعلان کیا۔

خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر نے بیان دیا کہ امریکہ کے خلاف عسکری کارروائی ’’اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ پچھتائیں نہ‘‘ ۔اس نے خبردار کیا کہ خطے میں ’’امریکی جارحانہ کارروائیوں‘‘ کا جاری رہنا ’’مزید شدید، وسیع تر اور زیادہ تباہ کن‘‘ جوابات پر مجبور کرے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’’ایرانی عوام کے خلاف امریکی کارروائیوں کی فہرست مکمل ہو چکی ہے‘‘۔ کوہستک سیریک میں ایک شادی کی تقریب کے دوران رہائشی گھر کو نشانہ بنانے والے ایک ’’وحشیانہ‘‘ حملے کے نتیجے میں پچاس سے زائد افراد شہید اور زخمی ہو گئے۔

دوسری طرف اردن کی مسلح افواج نے دس بیلسٹک میزائلوں کو روکنے اور تباہ کرنے کا اعلان کیا، جب کہ تین دیگر میزائل دور دراز علاقوں میں گر ے، جن میں کسی قسم کا جانی نقصان یا ہلاکت ریکارڈ نہیں ہوئی۔

اسی طرح کویت نے بھی اپنے فضائی دفاع کی طرف سے میزائل حملوں اور ڈرون طیاروں کے خلاف جوابی کارروائی کا اعلان کیا، جب کہ بحرین نے کہا کہ اس نے مملکت کو نشانہ بنانے والے ایرانی ڈرون طیاروں کو روک کر تباہ کر دیا۔

منگل کی شام امریکی سینٹرل کمانڈ نے جنوبی ایران پر حملے کیے اور اس خطے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ٹرمپ نے بیان دیا کہ امریکہ نے پیر کے روز اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے والے آٹھ میزائلوں کے فائر کیے جانے اور آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی ایرانی کوشش کے جواب میں ایران پر حملے کیے۔

امریکی حملے کے تقریباً تین گھنٹے بعد تسنیم نیوز ایجنسی نے امریکی حملے کے جواب میں اس چیز کے آغاز کی اطلاع دی جسے اس نے ایرانی مسلح افواج کا ’’فیصل کن آپریشن‘‘ قرار دیا۔ اس کے بعد فارس نیوز ایجنسی نے ایران سے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے فائر کیے جانے کی تصدیق کی۔

ادھر ایرانی ٹیلی ویژن نے انقلابی گارڈ کے حوالے سے تصدیق کی کہ اردن میں امریکی میرینز کے ایک کیمپ پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔

دوسری جانب الجزیره کے نامہ نگار نے شرق اردن کے شہر المفرق میں میزائلوں کو روکے جانے کی تصدیق کی اور اردن کے ٹیلی ویژن نے ملک میں سائرن بجائے جانے کا اعلان کیا۔ اکسیوس ویب سائٹ نے نقل کیا کہ ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں امریکی اڈوں کی طرف بیلسٹک میزائل فائر کیے۔

ہاسداران انقلاب کے ترجمان نے بیان دیا کہ ’’امریکہ اپنے نئے حملوں پر پشیمان ہو گا۔ امریکی حملے آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کا سبب بنیں گے۔

ایرانی جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے بھی ملک کے جنوب میں سیستان و بلوچستان اور ہرمزگان کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے نئے حملوں کے جواب میں امریکہ کو شدید ضربیں لگانے کی دھمکی دی تھی۔

پیر کی صبح سویرے امریکہ اور ایران نے ایک ماہ سے زائد کے نسبتاً سکون کے بعد باہمی گولہ باری کا دوبارہ آغاز کیا، جو کہ امریکی افواج کی طرف سے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے جزیرہ لارک پر حملے کرنے کے بعد شروع ہوا، جس کے بعد تہران نے متحدہ عرب امارات اور اردن میں امریکی فوج کے ان مقامات پر میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے حملے کیے جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ عسکری نوعیت کے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan