غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی مغرب میں قابض صہیونی دشمن کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں پانچ معصوم شہری جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ متعدد دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ یہ سفاکانہ کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ غاصب ریاست کی طرف سے مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور قابض فوج جنگ بندی کے تمام معاہدوں کو پامال کر رہی ہے۔
مزاحمتی اور مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض فوج کے درندہ صفت طیاروں نے غزہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع محلہ تل الہویٰ میں ایک چلتی ہوئی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین بہادر فلسطینی شہری موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ شہداء کی شناخت براء ایمن الروبی، مومن سعید الہواری اور طلال بدوی کےناموں سے کی گئی ہے۔
اس سے قبل ایک اور دلخراش واقعے میں قابض فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے مغرب میں میونسپل پارک کے قریب شہریوں کے ایک گروپ پر میزائل برسا دیے جس کے نتیجے میں دو نوجوان عاصم خالد توفيق أبو عبده اور عمر محمد السراج جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ کئی دوسرے افراد شدید زخمی ہو گئے۔
دوسری طرف قابض صہیونی عقوبت خانے کے درندوں اور بحری افواج نے بھی اپنی سفاکیت کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے صبح غزہ کے سمندر میں محنت کش ماہی گیروں کو نشانہ بنایا۔ قابض بحریہ کی فائرنگ سے پانچ ماہی گیر شدید زخمی ہو گئے جن میں سے ایک ماہی گیر احمد الشیخ کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس سے قبل غاصب دشمن کے ایک کواڈ کاپٹر ڈرون نے غزہ کی بندرگاہ کے قریب ماہی گیروں کی کشتی پر بم حملہ کیا تھا جس سے تین افراد زخمی ہوئے تھے۔
مظلوموں پر مظالم کا یہ سلسلہ صرف ساحل تک محدود نہیں رہا بلکہ خان یونس کے شمال مغرب میں حمد سٹی ٹاورز کے مکینوں پر قابض ٹینکوں نے اندھا دھند گولہ باری کی جس سے ایک شہری زخمی ہوا۔ اسی طرح خان یونس کے مشرقی علاقوں سے قابض توپ خانے نے رفح شہر کے مغربی حصوں کو بھی شدید گولہ باری کا نشانہ بنایا۔ وسطی غزہ میں البریج اور المغازی کیمپوں کے مشرقی علاقوں پر بھی قابض فوج نے ڈرون طیاروں اور فوجی گاڑیوں سے شدید فائرنگ کی۔ یہ تمام ہولناک حملے اس بات کا غماز ہیں کہ قابض فوج لگاتار تین سو پچیسویں دن بھی جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزیاں کر رہی ہے اور نہتے فلسطینیوں کے گھروں اور تنصیبات کو بلاتوقف مسمار کر رہی ہے۔
شہداء کی لرزہ خیز تعداد
غزہ پٹی میں وزارت صحت کے جاری کردہ تازہ ترین اور دل دہلا دینے والے اعداد و شمار کے مطابق گیارہ اکتوبر کو نام نہاد جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک شہید ہونے والے مظلوموں کی تعداد ایک ہزار تین سو بیس تک پہنچ چکی ہے جبکہ چار ہزار تین سو پچاسی افراد شدید زخمی ہیں۔ اس کے علاوہ ملبے تلے سے 815 لاشیں بھی نکالی جا چکی ہیں۔
ان ہلاکتوں کے ساتھ ہی سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غاصب صہیونی دشمن کی طرف سے غزہ پر مسلط کی جانے والی غیراعلانیہ اور ظالمانہ نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد تہتر ہزار چار سو چھپن ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ چہتر ہزار چار سو چھیانوے تک جا پہنچی ہے۔
