Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کی صورتحال پر یونانی جماعتوں کا سخت ردعمل، اسرائیل سے دفاعی معاہدے کی مخالفت

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یونان میں بائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں نے اپنی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تقریباً تین ارب یورو مالیت کے فضائی دفاعی معاہدے ’اخیلش شیلڈ‘ پر دستخط کرنے پر سخت تنقید کی ہے اور اسے اس وقت ایتھنز کا اسرائیلی حکومت پر انحصار گہرا کرنے کے مترادف قرار دیا ہے جب وہ غزہ کی پٹی میں نسل کشی کا ارتکاب کر رہی ہے اور مغربی کنارے میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

پارٹی ’سیریزا‘ نے کہا کہ “نئی جمہوریت” کی حکومت نے دفاعی اور عسکری امور میں یونان کا انحصار ایک ایسی اسرائیلی حکومت پر بڑھانے کا انتخاب کیا ہے جو “نسل کشی کا ارتکاب کر رہی ہے، بین الاقوامی تنظیموں کے ردعمل کو نظر انداز کر رہی ہے اور مغربی کنارے میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔”

پارٹی نے یونانی وزیر دفاع نیکوس ڈینڈیاس کے اس دعوے پر تنقید کی جسے انہوں نے “یونانی ڈیٹرنس کی صلاحیت کو مضبوط بنانے” کے مترادد قرار دیا تھا اور یہ سوال اٹھایا کہ اس معاہدے سے ان کے ملک کی تزویراتی خود مختاری کس حد تک حاصل ہوتی ہے۔

’سیریزا‘ نے سوال کیا کہ کیا یونان دیگر ممالک پر انحصار کیے بغیر معاشی طور پر پائیدار، مضبوط اور قومی کنٹرول کے تحت فضائی دفاعی نظام کا مالک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ “کیا ہمارا ملک واقعی مزید تزویراتی خود مختاری حاصل کر رہا ہے، یا وہ اسرائیل کے ساتھ باہمی تزویراتی انحصار کے فریم ورک کے اندر اسرائیل اور امریکہ کے میزائل شکن اور طیارہ شکن سکیورٹی نظام میں شامل ہو رہا ہے؟”

پارٹی نے دفاعی شعبے میں تقریبا تین ارب یورو کے اخراجات کو “اس انداز میں جس میں شفافیت کا فقدان ہے اور جو یونانی ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالتا ہے” تنقید کا نشانہ بنایا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ معاہدے کی تکنیکی تفصیلات کو ظاہر کرے اور اس بات کی وضاحت کرے کہ یہ یونان کی تزویراتی خود مختاری کی کس حد تک ضمانت دیتا ہے۔

معاہدے پر تنقید

یونانی کمیونسٹ پارٹی نے اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے “جنگ کی تیاریوں کو تیز کرنے اور خطے میں سامراجی منصوبوں اور امریکہ اور نیٹو کے رجحانات میں ہمارے ملک اور عوام کی شمولیت کو گہرا کرنے کے لیے ’نئی جمہوریت‘ کی حکومت کا ایک اور خطرناک فیصلہ” قرار دیا۔

پارٹی نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ “تزویراتی تعلقات” ایجیئن اور مشرقی بحیرہ روم میں ترکیہ اور یونان کے درمیان تنازعات میں “کشیدگی کو ہوا” دے رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس معاہدے کی لاگت جو تقریبا تین ارب یورو ہے یونانی عوام پر ایک بڑا بوجھ بنے گی.

اسرائیل اور یونان نے اس سے پہلے پیر کے روز تین ارب یورو کے ایک عسکری معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت تل ابیب یونان میں کثیر الجہتی فضائی دفاعی نظام قائم کرے گا۔

اسرائیلی وزارتِ جنگ نے کہا کہ اس نظام میں رافیل کمپنی کی طرف سے تیار کردہ “ڈیوڈ سلنگ” اور “اسپائیڈر” اور اسرائیلی ایروسپیس انڈسٹریز کمپنی کی طرف سے تیار کردہ “باراک ایم ایکس” نظام شامل ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan