خان یونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کے علاقے خان يونس میں قابض اسرائیلی بمباری سے متاثرہ دیوار گرنے کے نتیجے میں پیر کی صبح ایک شہری جاں بحق ہو گیا ہے۔ یہ دلخراش واقعہ ان کریک زدہ عمارتوں اور تنصیبات کے خطرناک پہلوؤں کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے جن کے قریب رہنے پر بے بس مکین مجبور ہیں۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ خان يونس میں ابو حمید چوک کے قریب قابض اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والی دیوار گرنے کے سبب شہری خالد ابراہیم عبد العال جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔
غزہ میں ہزاروں شہری اس تباہ کن صورتحال اور متبادل رہائش کی عدم موجودگی میں ان خستہ حال اور منہدم ہونے کے قریب عمارتوں میں رہنے کی وجہ سے روز افزوں خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جو قابض اسرائیل کی طرف سے مچائی جانے والی وسیع پیمانے پر تباہی کا نتیجہ ہیں۔
مکانات اور تباہ شدہ تنصیبات کی تعمیرِ نو کے لیے درکار تعمیراتی مواد اور موبائل ہومز کی فراہمی پر عائد پابندیوں کے تسلسل کے ساتھ ہی صورتحال مزید خطرناک ہوتی جا رہی ہے جو خاندانوں کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ان خستہ حال عمارتوں میں یا ان کے اطراف میں رہنے پر اکتفا کریں۔
گذشتہ عرصے کے دوران درجنوں شہری قابض اسرائیلی بمباری سے متاثرہ مکانات اور عمارتوں کے منہدم ہونے کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کیونکہ ان متاثرہ عمارات کے حصے مکینوں اور مہاجرین کے لیے انتہائی خطرناک مقامات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
غزہ میں شہری دفاع پہلے ہی یہ انتباہ جاری کر چکا ہے کہ خستہ حال عمارتوں میں مقیم ہزاروں شہری اور ان کے اردگرد ڈیرے ڈالنے والے مہاجرین اپنی زندگیوں کو لاحق حقیقی خطرات کی زد میں ہیں کیونکہ ان عمارات کو سنبھالنا اور ان کے اردگرد کے علاقوں کو محفوظ بنانا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔
شہری دفاع نے جنگ بندی کے معاہدے کی سرپرستی کرنے والے ممالک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور انسانی امداد کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں نیز متاثرہ عمارتوں سے نبردآزما ہونے اور شہریوں کو ان کے گرنے کے خطرات سے بچانے کی غرض سے پناہ گاہوں کے لوازمات اور بچاؤ کا سامان لانے کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالیں۔
یہ المیہ ایک ایسے وقت میں رونما ہو رہا ہے جب قطاع غزہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے نقوش اب بھی باشندوں کی زندگیوں پر مسلط ہیں جبکہ ملبہ ہٹانے اور تعمیرِ نو کے کاموں میں تاخیر اور متبادل رہائش گاہوں کے فقدان کی وجہ سے خستہ حال عمارتوں کے خطرات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
