غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے عسکری ونگ شہید عزالدین القسام بریگیڈز نے پہلی بار اپنے عسکری میڈیا کے کمانڈر اور ترجمان حذیفہ سمیر الکحلوت “ابوعبیدہ” شہید کی ظاہری پردہ پوشی کے پیچھے کی کچھ جھلکیاں دنیا کے سامنے عیاں کی ہیں۔ یہ انکشاف ان کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر کیا گیا ہے، اس موقع پر ان کا آخری خطاب بھی نشر کیا گیا جسے بریگیڈز نے “آخری الوداعی خطاب” کا نام دیا ہے۔
“آخری الوداعی خطاب”
القسام بریگیڈز نے ابوعبیدہ کا آخری خطاب دوبارہ نشر کیا اور اسے ان الفاظ کے ساتھ پیش کیا: “آخری الوداعی خطاب.. جس دن شہید کمانڈر حذیفہ الکحلوت ابوعبیدہ نے سب پر حجت تمام کر دی تھی۔” یہ دراصل اس خطاب کی بازگشت تھی جو ان کی شہادت سے چند لمحوں قبل ان کا آخری میڈیا ظہور تھا۔
ان نئے منظر میں ابوعبیدہ کو منظر عام پر آنے سے پہلے کے لمحات میں دیکھا جا سکتا ہے جب وہ فوجی بیانات دینے کی تیاری کے لیے اپنے چہرے پر نقاب اور روایتی کوفیہ سجا رہے تھے، جو پردے کے پیچھے کی ان تیاریوں کی ایک جھلک پیش کرتا ہے جو عوام کے سامنے ان کے آنے سے پہلے کی جاتی تھیں۔
اس کے علاوہ، ابوعبیدہ کو “طوفان الاقصیٰ” آپریشن کی تیاریوں کے دوران ایک آپریشن روم کے اندر القسام بریگیڈز کے کمانڈر جنرل محمد ضیف کے ساتھ بھی دیکھا گیا، جبکہ دیگر مناظر میں وہ القسام کے چند عناصر کے ہمراہ ایک مسنون دعا کی تلاوت کرتے ہوئے نظر آئے۔
“شکریہ اور احسان شناسی” کا پیغام
پردے کے پیچھے کے مناظر کو نشر کرنے اور آخری خطاب کو دوبارہ پیش کرنے کے ساتھ ہی القسام بریگیڈز نے ایک پرانا خط بھی شائع کیا جو ابوعبیدہ نے 18 جنوری سنہ 2025ء کو تحریر کیا تھا اور اسے “شکریہ اور احسان شناسی” کے عنوان سے عسکری میڈیا کے کارکنان کے نام منسوب کیا تھا۔
ابوعبیدہ نے اپنے اس پیغام میں عسکری میڈیا کے کارکنان کی کاوشوں کو سراہا، فوٹوگرافروں، دستاویزی امور انجام دینے والوں، ایڈیٹرز، ڈیزائنرز، محققین اور پس پردہ کام کرنے والے تمام عملے کے کردار کی پرزور تحسین کی۔ انہوں نے ان تمام افراد کو خراج تحسین پیش کیا جنہیں انہوں نے “گمنام سپاہی” قرار دیا جنہوں نے میڈیا کی تصویر کشی میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے لکھا کہ عسکری میڈیا کے کارکنان نے مصائب کی شدت، قربانیوں کی عظمت اور جنگ کی ہولناکی کے باوجود “ابھی تک 471 دنوں تک بغیر کسی تھکن یا پسپائی کے” اپنا کام جاری رکھا، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ عسکری میڈیا مقابلے کے پہلے لمحے سے ہی میدان میں موجود رہا ہے۔
ایک پڑاؤ گزر گیا اور ہم دوسرے میں داخل ہو رہے ہیں
ابوعبیدہ نے اپنے پیغام میں اگلے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: “ایک پڑاؤ گزر گیا اور ہم دوسرے میں داخل ہو رہے ہیں”، اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ مرحلہ اپنے ساتھ کتنے ہی چیلنجز اور رکاوٹیں لائے گا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ “اس کی قیمت بہت بڑی ہے اور قربانی بھی عظیم ہے۔”
انہوں نے اپنے ساتھیوں کو دعوت دی کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں اور نئے مرحلے کے لیے خود کو تیار رکھیں، اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ اپنا فریضہ انجام دیتے رہیں گے، اور اپنے پیغام کا اختتام اس دعا پر کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں ثابت قدم رکھے اور ان کے قدموں کو سکیورٹی اور درستگی عطا فرمائے۔
شہادت کا ایک سال
30 اگست سنہ 2025ء کو حذیفہ الکحلوت “ابوعبیدہ” شہر غزہ کے مغرب میں واقع محلہ الرمال میں قابض اسرائیلی فوج کے ایک ہدف بنانے والے حملے میں اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔
ابوعبیدہ برسوں تک القسام بریگیڈز کے بیانات اور خطابات کا استعارہ بنے رہے، اور ان کی شناخت ہمیشہ اسی کوفیہ سے بندھی رہی جو ان کے چہرے پر نقاب بن کر ان کی میڈیا کی تصویر کا لازمی حصہ بن چکی تھی، جبکہ ان کا آخری خطاب ان کی شہادت کے بعد بریگیڈز کی زبان میں “آخری الوداعی خطاب” کی شکل اختیار کر گیا۔
بریگیڈز کی طرف سے سامنے آنے والے یہ مناظر منظر عام پر آنے سے پہلے کے لمحات، ان کے آخری خطاب اور اس خط کا حسین امتزاج ہیں جو ابوعبیدہ نے اپنے ساتھیوں کے نام چھوڑا تھا، تاکہ شہادت سے قبل ان کے آخری ایام کی ایک جھلک دنیا کے سامنے آ سکے اور وہ الفاظ ایک بار پھر زندہ ہو جائیں جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔
