مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)) قابض اسرائیلی حکام نے حال ہی میں وسطی مغربی کنارے کے شہر البیرہ کی 15 دونم سے زائد زمین پر قبضہ کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے تاکہ شہر کے مشرق میں جبل الطویل میں فلسطینی شہریوں کی زمینوں پر قائم ’بساگوت‘ بستی کے گرد تین ہزار آٹھ سو پینتیس میٹر طویل ایک ’سکیورٹی روٹ‘ تعمیر کیا جا سکے۔
میدانی اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ یہ راستہ تقریباً 380 اضافی دونم رقبے کو الگ کر دے گا جو کہ بستی کی موجودہ تعمیراتی حدود اور نئے روٹ کی لائن کے درمیان واقع ہے۔
اگرچہ یہ رقبہ سرکاری ضبطی کے احکامات میں شامل نہیں ہے، تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد مالکان کو ان کی زمینوں تک پہنچنے سے روک دے گا اور عملی طور پر اسے بستی کے سکیورٹی کنٹرول کے نیچے لے آئے گا۔
مبصرین کے مطابق یہ قدم اس تسلسل پسندانہ بستی سازی کی پالیسی کے فریم ورک کے اندر اٹھایا گیا ہے جس کی پیروی قابض حکام سات اکتوبر سنہ 2023ء سے کر رہے ہیں، جس کے دوران مغربی کنارے میں بستیوں کے گرد بفر زون مسلط کرنے کے مقصد سے چھیالیس فوجی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
یہ احکامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بفر زون کو عقبی سکیورٹی اقدامات سے ہٹا کر بستیوں کے پھیلاؤ کو وسیع کرنے اور مزید فلسطینی زمینوں کو ضم کرنے کا ایک دائمی ذریعہ بنایا جا رہا ہے، اور اس کے لیے کوئی نئی تعمیراتی اسکیمیں جاری نہیں کی جا رہی ہیں اور نہ ہی زمین کی ملکیت میں کوئی سرکاری تبدیلی لائی جا رہی ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ’بساگوت‘ بستی سنہ 1981ء میں البیرہ کے علاقے جبل الطویل میں ایک اونچی پہاڑی پر فلسطینیوں کی نجی زمینوں پر قائم کی گئی تھی، اور یہ شہر کے مشرقی سمت سے کسی بھی فلسطینی شہری عمارت سازی کے پھیلاؤ کو روکنے کا کام کرتی ہے۔
