غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک ایسے وقت میں جب غزہ کی پٹی کی معیشت اپنی تاریخ کی شدید ترین تباہی سے دوچار تھی، جنگ کے سالوں یعنی سنہ 2023ء سے سنہ 2025ء کے دوران بینکوں میں صارفین کے کھاتوں کے بیلنس میں ایک غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا تھا، جو کہ ایک ایسا تضاد ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بینکنگ کھاتوں کے اندر رقم میں اضافے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ خاندانوں کے حالات میں بہتری آئی ہے یا ان کے معیارِ زندگی میں کوئی اضافہ ہوا ہے۔
محقق ڈاکٹر سیف الدین یوسف عودہ کی ایک تحقیق جس کا عنوان “اقتصادی تباہی کے تناظر میں غزہ پٹی میں صارفین کی جمع پونجی میں اضافہ سنہ 2023ء تا سنہ 2025ء کی جنگ کے دوران مالیاتی دولت کی تبدیلیوں کی وضاحت کا ایک تجزیاتی ماڈل” ہے۔ یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ جنگ کے دورانیے میں پٹی میں صارفین کی جمع رقوم میں اوسطاً ماہانہ تقریباً 142اعشاریہ سات ملین ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ جنگ سے پچھلے سالوں میں یہ اضافہ ماہانہ صرف چھ اعشاریہ سات ملین ڈالر تھا۔
تحقیق کے مطابق جنگ کے دوران جمع رقوم کی اوسط سالانہ نمو تقریباً 72 اعشاریہ چار فیصد رہی جبکہ پچھلی دہائی کے دوران یہ صرف چھ اعشاریہ آٹھ فیصد تھی، جو کہ غزہ کے بینکنگ سسٹم کے اندر رقوم کی نقل و حرکت میں ایک غیر معمولی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔
رقوم کھاتوں میں داخل ہوتی ہیں.. مگر کھپت میں تبدیل نہیں ہوتیں
سب سے بڑا اضافہ افراد اور کمپنیوں کے کھاتوں میں مرکوز ہے؛ چنانچہ افراد کی جمع رقوم میں تقریباً دو اعشاریہ سات ایک چھ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ کمپنیوں کی جمع رقوم میں تقریباً چھ سو ترپن اعشاریہ چار ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔
مگر اس اضافے کو جنگ کے حالات سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ جب تنخواہوں، امداد اور ترسیلاتِ زر کے ذریعے رقوم بینکنگ کھاتوں میں آ رہی تھیں تو ان رقوم کو اشیاء اور خدمات کی خریداری میں استعمال کرنے کی ان کے مالکان کی صلاحیت انتہائی حاد طریقے سے کم ہو رہی تھی۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ خاندانوں کی حقیقی حتمی کھپت کے اخراجات میں تقریباً بیاسی فیصد کمی واقع ہوئی جو کہ سنہ 2022ء کے دو اعشاریہ آط آٹھ صفر آٹھ ارب ڈالر سے کم ہو کر سنہ 2025ء میں تقریباً پانچ سو چھ اعشاریہ دو ملین ڈالر رہ گئے۔
اس کے برعکس جنگ کے دورانیے میں صارفین کی قیمتوں کے انڈیکس کی اوسط میں تقریباً دو سو نوے اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب یہ ہے کہ نامیاتی بیلنس میں اضافہ رقوم کی حقیقی قدر میں کسی مساوی اضافے کے ساتھ نہیں ہوا۔
دوسرے لفظوں میں، کچھ رقم کھاتوں میں موجود تھی، لیکن ان رقوم سے جو اشیاء خریدی جا سکتی تھیں وہ کم ہو گئیں اور جو دستیاب تھیں ان کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔
تنخواہیں اور امداد اضافے کے ایک بڑے حصے کی وضاحت کرتی ہیں
تحقیق جمع رقوم میں اضافے کے ایک بنیادی حصے کو مارکیٹ میں اسے نقد نکالنے اور استعمال کرنے کی دشواری کے مقابلے میں بینکنگ کھاتوں میں رقوم کی مسلسل آمد سے جوڑتی ہے۔
تحقیق کے مطابق معیشت میں آنے والے مالیاتی بہاؤ کی کم از کم قابلِ پیمائش مقدار تقریباً دو اعشاریہ چھ دو چھ ارب ڈالر ہے، جن میں سے تقریباً ایک اعشاریہ پانچ چار سات ملین ڈالر تنخواہوں کی مد میں ہیں اور ایک اعشاریہ صفر سات نو ارب ڈالر باہر سے آنے والی امداد اور نقد ترسیلاتِ زر پر مشتمل ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ رقم افراد کی جمع رقوم کے کل اضافے کا تقریباً چھیانوے اعشاریہ سات فیصد بنتی ہے، جو کہ بینکنگ بیلنس کی بڑی نمو کی وضاحت کرنے میں تنخواہوں، امداد اور ترسیلاتِ زر کے اہم کردار کو اجاگر کرتی ہے۔
لیکن محقق اس اضافے کو خاندانوں کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کی براہ راست علامت کے طور پر لینے سے خبردار کرتا ہے؛ کیونکہ رقوم کا ایک حصہ کھاتوں کے اندر ہی رہا یا ان افراد اور کمپنیوں کے کھاتوں سے جڑ گیا جن کا تعلق جنگ کے دوران ابھرنے والی اور پھیلنے والی تجارتی اور مالیاتی سرگرمیوں سے تھا۔
“ٹیکیش” یعنی جب نقد روپیہ ایک کمایاب جنس بن جاتا ہے
جنگ کے ساتھ آنے والے نقدی بحران کے دوران، “ٹیکیش” کا رجحان غزہ میں رقوم کی نقل و حرکت کی تشکیل نو کرنے والے نمایاں ترین میکانزم میں سے ایک کے طور پر ابھرا۔
وہ شہری جو بینکنگ بیلنس تو رکھتا ہے، لیکن اسے کھانا یا دوا خریدنے یا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے نقد رقم کی ضرورت ہوتی ہے، وہ کسی ایسے شخص یا فریق سے نقد رقم حاصل کرنے کے بدلے کمیشن ادا کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے جو نقدی رکھتا ہو۔ اور کھاتوں میں موجود رقوم اور مارکیٹ میں دستیاب نقدی کے درمیان خلیج کے وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ، خود نقدی ایک نایاب وسیلہ بن گئی جس کی اپنی قیمت تھی۔
محقق کا یہ ماننا ہے کہ “ٹیکیش” سے حاصل ہونے والے منافع کو منافع کی ایک قسم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے؛ کیونکہ یہ کسی نئی شے کی پیداوار یا ایسی خدمت کی فراہمی سے حاصل نہیں ہوتے جو معیشت میں حقیقی قدر کا اضافہ کرے، بلکہ یہ نقدی نامی ایک نایاب مالیاتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے سے آتے ہیں۔
تحقیق بتاتی ہے کہ یہ رجحان نقدی کی کمی، مقابلے کی کمزوری اور جنگ کے حالات کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے سائے میں مالیاتی، اجارہ داری اور غیر براہ راست ادارہ جاتی منافع کا مجموعہ بن گیا۔
جو مارکیٹ کا مالک ہے وہ قوتِ خرید کے ایک حصے کا مالک ہے
تحقیق مالیاتی شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کی تشریح کو یہیں تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ اس کا تعلق اس صورتحال سے بھی ہے جو مارکیٹوں، سپلائی چینز اور اشیاء کی دستیابی میں پیش آئی۔
چونکہ اشیاء کے داخل ہونے کی حد محدود تھی، بنیادی اشیاء کی کمی تھی اور ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا تھا، لہذا اشیاء اور مارکیٹوں کی نقل و حرکت پر غلبہ رکھنے والے کچھ طبقات کی دستیاب قوتِ خرید کو حاصل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گیا۔
ایک ایسے وقت میں جب خاندانوں کی کھپت کی صلاحیت کم ہو گئی، اشیاء کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا، جس کی وجہ سے پیداوار میں کسی مساوی توسیع یا نئی اضافی قدر پیدا کیے بغیر جنگی معیشت کے اندر آمدنی اور دولت کا ایک حصہ منتقل ہو گیا۔
اور یہاں تضاد بہت واضح ہو جاتا ہے: بینکنگ کھاتے کا بیلنس بڑھ سکتا ہے، جبکہ کھانے، دوا اور ان اشیاء کی مقدار کم ہو جاتی ہے جو اس بیلنس کے ذریعے اس کا مالک خرید سکتا ہے۔
جمع رقوم میں اضافے کا مطلب دولت میں اضافہ نہیں ہے
تحقیق اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ جنگ کے دوران جمع رقوم میں ہونے والے بڑے اضافے کو غزہ کے خاندانوں کی طرف سے دولت کے حقیقی جمع ہونے کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیے۔
اضافے کا بڑا حصہ معیشت کے اندر رقوم کے راستوں کی تبدیلی اور تنخواہوں، امداد اور ترسیلاتِ زر کے مسلسل بہاؤ کے ساتھ ساتھ مختلف طبقات کے درمیان آمدنی اور دولت کی دوبارہ تقسیم سے جڑا ہوا ہے جنہوں نے جنگی معیشت کے حالات سے مختلف درجات میں فائدہ اٹھایا۔
اس طرح، جنگ کے سالوں کے دوران غزہ میں بینکنگ میں جمع رقوم میں اضافہ ایک ایسی مالیاتی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جسے خود اقتصادی تباہی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
بینکنگ کے اعداد و شمار رقوم میں اضافے کا اشارہ دے سکتے ہیں، لیکن کھپت، قیمتوں اور قوتِ خرید کے اشارے ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں: ایک ایسی معیشت جس میں نامیاتی بیلنس پھول رہا ہے، جبکہ آمدنی اور دولت کی حقیقی قدر ختم ہو رہی ہے۔
اور اس طرح تضاد اس بات میں نہیں ہے کہ جنگ کے دوران غزہ کے باسی زیادہ امیر ہو گئے، بلکہ اس بات میں ہے کہ رقوم کھاتوں میں پہنچتی رہیں ایک ایسے وقت میں جب انہیں بنیادی ضروریات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت زیادہ مشکل اور مہنگی ہو گئی۔
