مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سمندر پار موجود فلسطینی تارکین وطن کی نمائند ہ عوامی کانفرنس کی القدس کمیٹی نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ریلیف اینڈ ورکس (انروا) کے ٹریننگ سینٹر پر قابض اسرائیلی فوج کے دھاوے، عملے کو زبردستی نکالنے اور اس کے صدر دفتر پر قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے اداروں کے استحقاق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کمیٹی نے ایک بیان میں اس اقدام کو “انروا” اور فلسطینی پناہ گزینوں کی خدمت میں اس کے کردار کو نشانہ بنانے میں ایک خطرناک اور مسلسل اشتعال اور بین الاقوامی اداروں اور فلسطینی موجودگی کو نشانہ بنانے والی جارحانہ پالیسی کے تحت القدس میں ایک نئی صورتحال مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
کمیٹی نے شدت پسند ایتمار بن گویر کے اشتعال انگیز رویے، انروا کے مرکز پر اس کے دھاوے اور اسے خالی کرانے کے عمل میں اس کی شرکت کی بھی پُرزور مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدامات ایک ایسے متعصبانہ رجحان کی عکاسی کرتے ہیں جو حالات کو بگاڑنے اور نئے حقائق مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے مقدسات کے شہر میں مزید کشیدگی اور تناؤ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ قلندیا ٹریننگ سینٹر قابض اسرائیل کی ملکیت نہیں ہے اور اسے طاقت کے زور پر ہتھیا لینا اسے اس کا کوئی حق نہیں دیتا۔ اس نے مزید کہا کہ القدس پر خودمختاری کے بارے میں اسرائیلی دعوے اس حقیقت کو نہیں بدلتے کہ شہر کا مشرقی حصہ بھی بین الاقوامی قانون کے مطابق مقبوضہ فلسطینی سرزمین ہے۔
کمیٹی نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عرب و اسلامی ممالک سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کریں، اس خطرناک حملے کے خلاف ایک واضح اور عملی موقف اختیار کریں، اقوام متحدہ کے دفاتر کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور “اسرائیل” کو انروا کو نشانہ بنانے اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اس کے کردار کو کمزور کرنے سے روکیں۔
القدس کمیٹی نے “انروا” سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے، صرف مذمت پر اکتفا نہ کرے، بلکہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کے تنصیبات کے تحفظ اور اس کے استحقاق کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے واضح اور فیصلہ کن اقدامات کریں اور ان حملوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی ذرائع سے حرکت میں آئے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ریلیف اینڈ ورکس (انروا) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ “اسرائیلی فورسز نے صبح تقریباً دس بجے قلندیا ٹریننگ سینٹر پر طاقت کے بل بوتے پر دھاوا بولا، جن کے ساتھ پچاس سے زائد سکیورٹی اہلکار موجود تھے اور کم از کم چار بکتر بند گاڑیاں استعمال کی گئیں، جبکہ اس وقت انروا کے تقریبا 20 ملازم موقع پر موجود تھے”۔
انروا نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ دھاوے کے بعد اسرائیلی حکام نے عام بیانات دیے جن میں اشارہ کیا گیا کہ اسرائیلی حکام نے عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔
انروا نے قلندیا ٹریننگ سینٹر میں اس غیر مجاز اور انتہائی تشویشناک گھس پٹھ کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے کسی ادارے میں اس کی اجازت یا موافق کے بغیر مسلح سکیورٹی فورسز کا داخل ہونا ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔
