مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بیت المقدس اور مقدسات کے نصرت کے لیے قائم کردہ اسلامی مسیحی کونسل نے مسجد اقصیٰ مبارک پر یہودی آباد کاروں کے بے مثال حملوں اور ان کے ساتھ جڑے ہوئے اشتعال انگیز مذہبی رسومات، ممارستوں اور مسجد کے تقدس کی غاصبانہ پامالیوں میں خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے اضافے کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے، جو قابض پولیس کی مسلح حفاظت، کابینہ کے وزراء، کنیسٹ کے ارکان اور نام نہاد “ہیکل کے امین” نامی انتہا پسند گروہوں کے قائدین کی شرکت کے ساتھ انجام پا رہے ہیں۔
کونسل نے پیر کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ مہینے کے آغاز سے درج کیے جانے والے حملوں کے اعداد و شمار اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حملہ آوروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، یہودی جتھے اب انتہا پسند عناصر کی انفرادی کارروائیوں سے نکل کر ایک ایسی باقاعدہ اور منظم پالیسی کی شکل اختیار کر چکے ہیں جن کا مقصد مسجد اقصیٰ کے اندر یہودی موجودگی کو راسخ کرنا، طاقت کے بل بوتے پر نئے حقائق مسلط کرنا، اور الحرم القدسی الشریف کی موجودہ قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔
کونسل نے واضح کیا کہ رونما ہونے والی ان خطرناک پیش رفتوں کی سنگینی محض حملہ آوروں کی تعداد تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان دھاووں کی نوعیت، ان کے مضامین، اہداف اور ان کے ساتھ انجام دی جانے والی اعلانیہ اور اجتماعی تلمودی رسومات، سجدہ ریزی، زمین پر لیٹنے، گانے اور رقص کرنے، نیز یہودی مذہبی کتابیں، لباس اور اشیاء اندر داخل کرنے تک پھیلی ہوئی ہے، جو ان حملوں کو ایک روزمرہ کے مذہبی اور سیاسی عمل میں تبدیل کرنے کی مذموم کوشش ہے۔
کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام مذموم سرگرمیاں مسجد اقصیٰ کی اسلامی دینی شناخت پر ایک کاری ضرب اور تمام تر دینی و قومی سرخ لکیروں کی صریح خلاف ورزی ہیں، اس نے انتباہ کیا کہ اس کا تسلسل ایک وسیع دینی تصادم کو بھڑکانے کا خطرہ پیدا کرتا ہے، اور قابض حکومت کو اس کے تمام تر نتائج کی مکمل ذمہ داری سونپی۔
کونسل نے عالمی برادری اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے حوالے سے جاری اس صورتحال میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں، دھاووں اور اشتعال انگیز کارروائیوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں، اور الحرم القدسی الشریف کی موجودہ قانونی اور تاریخی حیثیت کو برقرار رکھیں۔
