مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے قومی تعلقات کے دفتر کے سربراہ حسام بدران نے پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین – جنرل کمانڈ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل انور رجا کے ساتھ سیاسی اور میدانی صورتحال کے ساتھ ساتھ غزہ پٹی پر قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں فلسطینی انتخابی مراحل کے لیے جاری تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔
حسام بدران نے گذشتہ روز بروز پیر انور رجا سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں فلسطینی عوام پر قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور غزہ پٹی میں قابض دشمن کی طرف سے اپنے وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے حملوں پر گفتگو کی گئی۔
اس ٹیلیفونک رابطے میں فلسطینی قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے خصوصی تیاریوں اور مختلف دھڑوں، سیاسی قوتوں اور آزاد قومی شخصیات پر مشتمل ایک وسیع قومی بلاک کی تشکیل کی تجویز پر بھی بات کی گئی تاکہ آنے والے سیاسی اور انتخابی مراحل کے دوران ایک مشترکہ نقطہ نظر کو نکھارا جا سکے اور قومی شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔
قومی کونسل کے اراکین کی تقرری مسترد
فلسطینی قومی کونسل کے انتخابات کے حوالے سے دونوں فریقوں نے کونسل کے اراکین کی تقرری کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قومی کونسل میں فلسطینی عوام کے نمائندوں کا انتخاب فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے اور یہ ایک جامع اور جمہوری انتخابی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے جو اندرون اور بیرون ملک فلسطینی عوام کے تمام طبقات کی شرکت کو یقینی بنائے۔
حسام بدران اور انور رجا اس بات پر متفق ہوئے کہ آنے والے مرحلے کے دوران قومی اور انتخابی مرحلوں سے نمٹنے اور فلسطینی سیاسی اور قومی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے ایک اتفاق رائے پر مبنی لائحہ عمل تک پہنچنے کے لیے رابطے جاری رکھے جائیں گے اور دھڑوں کے درمیان دوطرفہ ملاقاتوں اور مشاورت کو تیز کیا جائے گا۔
یہ سرگرمی سیاسی شرکت کی شکل اور آنے والے انتخابی مراحل کے حوالے سے فلسطینی قوتوں اور دھڑوں کے درمیان جاری رابطوں کے ساتھ ساتھ شراکت داری کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور تقسیم کی کیفیت سے باہر نکلنے کے مطالبات کے درمیان سامنے آئی ہے۔
