Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

ٹرمپ کا جنگ ہارنے سے شکست خوردہ معاشی جنگ کا سفر

تحریر: ڈاکٹر ندیم بلوچ

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی صدر نے اعلان فرمایا ہے کہ اب وہ ایران کے خلاف پابندیوں کا ایک طوفان لے کر آ رہے ہیں۔ ایسی پابندیاں لگیں گیں، جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہ پابندیاں ایران پر کم اور ایران کے اتحادیوں پر زیادہ لگ رہی ہیں، جو ایران سے تجارت کر رہے ہیں۔ اس پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب عباس عراقچی نے امریکی صدر اوباما کا 12 اکتوبر 2012ء کا ایک ٹویٹ ری ٹیویٹ کیا، جس میں اس نے لکھا تھا: “یہ پابندیوں کی تاریخ میں عائد کی جانے والی سب سے زیادہ تباہ کن پابندیاں ہیں۔ بس، بات ختم۔” اس  کے جواب میں جناب عباس عراقچی نے لکھا: ۱۴ سال پہلے کہا گیا: تاریخ کی سب سے تباہ کن پابندیاں۔ مگر وہ ناکام ہوئیں۔ 8 سال پہلے ۔زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی آزمائی گئی، وہ بھی ناکام رہی۔ 5 ماہ پہلے بلاشرط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا، وہ بھی ناکام ہوا اور آج اب تک کا سب سے شدید معاشی آپریشن شروع کرنے کی بات کی جا رہی ہے، جو ناکامی سے دوچار ہونا طے ہے۔ ہم یہ فلم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں؛ وہی پرانی کہانی، بس بدمعاش بدل گئے ہیں۔

یہ پابندیاں آج کی بات نہیں ہیں، پہلے دن سے تم پابندیاں ہی لگا رہی ہو۔ یہ پابندیاں انقلاب اسلامی کے لیے نعمت ثابت ہو رہی ہیں۔ اب ہر وہ چیز ایران کے اندر بن رہی ہے، جو چالیس سال پہلے صرف درآمد کی جاتی تھی۔ پہلے درآمدات پر پابندیاں لگائی جاتی تھیں، اب آپ حیران ہوں گے، برآمدات پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ جنگ تم نے مسلط کی، جنگ میں تم ہار گئے، اب معاشی پابندیاں لگانے پر اتر آئے ہو۔ ایران کی معیشت مزاحمتی معیشت ہے، اس کو ڈیزائن ہی ایسے کیا گیا ہے، جس میں بڑے بڑے جھٹکے برداشت کرنے کی صلاحیت ہے۔ جب تاجر اور معیشت دان کو نظر آرہا ہو کہ ہم جیت رہے ہیں تو وہ کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا، اسے معلوم ہے کہ بہت جلد یہ سب ختم ہونے والا ہے اور فروانی کے دن آنے والے ہیں۔ اس کے مقابل امریکی معیشت کی چولیں ہل رہی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہرمز کے بند ہونے سے پٹرو ڈالر خطرے میں پڑ گیا ہے۔

بقول پروین ساہنی ٹرمپ کا پروگرام تھا کہ ہرمز پر قبضے کرکے عربوں سے جگا ٹیکس خود لوں گا، مگر ایران نے اس کے سارے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے اور اب ہرمز مکمل طو رپر ایران کے کنٹرول میں ہے اور ایران بہت اچھی بات کر رہا ہے کہ سکیورٹی کا ریجنل فریم ورک ہوگا، جو اسے چلائے گا۔ ایلون مسک بھی کہہ رہا ہے کہ امریکی حکومت کا قرض 50 کھرب ڈالر تک پہنچنا ملک کے لیے بحران پیدا کر دے گا۔ موجودہ قرض تاریخ میں پہلی بار 40 کھرب ڈالر کی سطح تک پہنچ چکی ہے  اور ہر سال دو کھرب ڈالر کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ امریکیوں کو دوسروں کی کمائی ڈالر پرنٹ کرکے کھانے کی عادت پڑی ہوئی ہے، اس لیے اب ہر طرح سے کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح ایران کو رام کر لیا جائے اور پرانا سیٹ اپ بحال ہو جائے۔ ہرمز جنگ سے پہلے کی طرح کھل جائے اور اس کے مقابل ایران کو کچھ رعائتیں دے دی جائیں اور کچھ سال بعد پھر پوری تیاری کے ساتھ آکر حملہ کیا جائے۔

انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ  اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت نے مکمل اسسمنٹ کی ہوئی ہے، اس لیے اب وہ میز پر کسی ایسے معاہدے کو  قبول نہیں کرے گا، جس میں اس بات کی گارنٹی نہ لے لے کہ چند سال بعد دوبارہ حملہ نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تیل  ڈیڑھ سو ڈالر پر بیرل کو کراس کرے اور یہ ضرور کرے گا۔ ڈیوڈ میک ایلوانی، عالمی منڈیوں کے تجزیہ کار اور میک ایلوانی فنانشل گروپ کے سی ای او ان کے مطابق: اس وقت تیل کی اصل قیمت 140 ڈالر فی بیرل ہے۔ جو برینٹ تیل 88 ڈالر فی بیرل ظاہر ہو رہا ہے، اصل میں خریدار کو 140 ڈالر تک کی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ (یہ بیان چند دن پرانا ہے، جب تیل 88 ڈالر فی بیرل تھا، اب تیل 94 ڈالر پر ظاہر ہو رہا ہے، یعنی اصل میں قیمت 150 ڈالر فی بیرل ہے) یعنی یہ  ٹائم بم ہے، کسی وقت بھی پھٹ کر پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپٹ میں لے سکتا ہے۔

ویسے جب بری ہوا چلتی ہے تو چیزیں بڑی تیزی سے ہاتھ سے نکلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک خوبصورت تحریر نظر سے گزری: ایران کے ساتھ جنگ نے امریکہ کی ساکھ کو کتنا طرح متاثر کیا ہے۔؟ اب اس کا اندازہ ہونے لگا ہے، کیونکہ اب امریکہ کے پرانے اتحادی بھی اپنے فیصلوں میں امریکہ کو شریک کرنا چھوڑتے جا رہے ہیں۔ اس کی چند مثالیں دیکھیں۔ ڈنمارک نے امریکی Patriot کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے اس کے بجائے فرانس اور اٹلی کا SAMP/T NG فضائی دفاعی نظام منتخب کر لیا ہے۔ کینیڈا نے ایف 35 طیاروں کی ڈیل کو کھٹائی میں ڈال دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اب کینیڈا نے امریکی مخالفت کے باوجود چینی الیکٹرک کار بی وائی ڈی کی گاڑیاں امپورٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یورپ دوبارہ اپنی دفاعی صنعت، research اور weapons production کھڑی کر رہا ہے۔ یعنی وہ اپنی دفاعی صنعت کو امریکہ سے الگ کرنا چاہتا ہے۔ خلیجی ممالک نے بھی امریکہ کے بجائے جنوبی کوریا کے میزائلز اور چین کے ڈرونز کو خریدنے پہ غور کرنا شروع کر دیا ہے۔

ہالینڈ کے بینک نے اپنی کلاؤڈ سروسز کے لیے امریکہ کی کمپنیز کے بجائے یورپ پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ اکارڈ کو بھی اس سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ عمان نے بھی امریکی مخالفت کے باوجود آبنائے ہرمز کے انتظام پر ایران سے براہِ راست بات چیت شروع کر دی ہے۔ جس پر امریکہ نے بمباری کی دھمکی بھی دی ہے۔ اٹلی نے ایران کے خلاف امریکی military operations میں تعاون اور airspace دینے سے انکار کر دیا ہے۔۔ حال ہی میں جنوبی کوریا نے بھی ایران جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق کسی عالمی طاقت کے زوال کی ابتدا یہی ہوتی ہے کہ اس کے اتحادی اس کو نظر انداز کرکے اپنے فیصلے خود کرنا شروع کر دیتے تھے۔ یہ بد اعتمادی یک طرفہ نہیں ہے، دوسرے ٹرمپ بھی سر پیٹ رہا ہے اور کہہ رہا ہے: جب ہم ایران سے جنگ لڑ رہے تھے، نیٹو نے معمولی مقدار کے ہتھیاروں سے بھی ہماری مدد نہیں کی۔ ہم دنیا کو بچا رہے تھے، اب ہم نیٹو کی حفاظت پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ نہیں کریں گے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan