غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض صہیونی حکام نے اتوار کے روز شام کے وقت غزہ سے تعلق رکھنے والے چھ اسیران کو رہا کر دیا، جنہیں اس نسل کشی کی جنگِ صفایا کے دوران پٹی میں ان کے موجودہ مقامات سے مختلف ادوار میں گرفتار کیا گیا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق ریڈ کراس کی کمیٹی کے عملے کے توسط سے یہ تمام آزاد ہونے والے اسیران غزہ کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے ناصر ہسپتال پہنچ گئے۔
ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے اپنے ایک مختصر بیان میں اس بات کا اعلان کیا کہ اس نے کرم ابو سالم کی گزرگاہ سے رہا کیے جانے والے چھ قیدیوں کی قطاع کے جنوب میں خان یونس کے ناصر ہسپتال منتقلی میں سہولت فراہم کی۔
قابض صہیونی فوج غزہ کے اسیران میں سے وقتاً فوقتاً محدود تعداد میں لوگوں کو رہا کرتی ہے، جب کہ ان میں سے کئی ایک کے چہروں اور جسموں پر تھکن، نقاہت اور وحشیانہ تشدد کے واضح آثار نمایاں ہوتے ہیں، جو قابض دشمن کی جیلوں اور تفتیشی مراکز کے اندر انہیں درپیش انتہائی کٹھور حالات کا نتیجہ ہیں۔
جولائی سنہ 2026ء کے آغاز تک فلسطینی اسیران کے اداروں کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، قابض صہیونی عقوبت خانوں میں تقریباً نو ہزار چار سو فلسطینی اسیران اور قیدی موجود ہیں، جن میں قطاع غزہ سے تعلق رکھنے والے تیرہ سو بیس قیدی بھی شامل ہیں جنہیں قابض حکام نے غیر قانونی جنگجو کے عنوان کے تحت نامزد کر رکھا ہے۔
ان اعداد و شمار میں وہ ہزاروں قیدی ہرگز شامل نہیں ہیں جو قابض فوج کے فوجی کیمپوں اور خفیہ حراستی مراکز میں بند ہیں، جن میں سديه تيمان کیمپ اور دیگر مراکز بھی شامل ہیں، ان کے حالات اور حراستی مقامات کے بارے میں اب بھی کافی سرکاری معلومات مفقود ہیں۔
