مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے میں مختلف علاقوں میں یہودی آباد کاروں اور قابض فوج کے شہریوں پر حملوں کے نتیجے میں فائرنگ سے زخمی ہونے والوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
فلسطینی ہلال احمر نے اطلاع دی ہے کہ الخلیل کے قریب بنی نعیم کے علاقے العديسة پر حملے کے دوران یہودی آباد کاروں کی فائرنگ سے دو شہری زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ آباد کاروں کے ایک گروہ نے اس علاقے میں شہریوں کے گھروں پر دھاوا بولا اور لوگوں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔
اسی طرح الخلیل کے شمال میں واقع بیت أمر کے قریب جب حمادہ كواملہ نامی نوجوان اپنے بچوں کے ہمراہ اپنی زمین پر کاشتکاری کر رہا تھا تو یہودی آباد کاروں نے اس پر حملہ کر کے اسے موٹر سائیکل سے کچل دیا، جس کے بعد قابض فوج نے اسے گرفتار بھی کر لیا۔
یہ تمام واقعات رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع قصبے المغير کے اطراف میں آباد کاروں کے حملے کے خلاف فلسطینی نوجوانوں کی طرف سے کی جانے والی جوابی کارروائی اور جھڑپوں کے ساتھ رونما ہوئے۔
مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع قصبے حزما میں قابض فوج نے دھاوا بول کر تمام راستے بند کر دیے، زہریلی گیس اور ساؤنڈ بم برسائے، اور ایک نوجوان کی گاڑی روک کر اسے حراست میں لینے کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
اسی طرح قابض فوج نے بیت لحم کے جنوب میں واقع قصبے بيت فجار پر یلغار کی، جہاں شدید جھڑپیں ہوئیں اور قابض فوجیوں نے شہریوں پر گولیاں، ساؤنڈ بم اور آنسو گیس کے گولے فائر کیے۔
مغربی کنارے کے شمال میں قابض فوج کی یونیفارم پہنے ہوئے یہودی آباد کاروں نے بجلی کی ترسیل کرنے والی کمپنی کے عملے پر حملہ کیا، دو ملازمین کو یرغمال بنایا اور ان میں سے ایک سے نقدی چھین لی۔
