مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے جبل المکبر میں ایک فلسطینی خاندان کو اپنے ہی تین گھروں کو مسمار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
القدس گورنری نے اطلاع دی ہے کہ قابض بلدیہ نے زعترہ خاندان کو ان تینوں مکانات کو مسمار کرنے کا حکم دیا۔ یہ اقدام ان مکانات کے خلاف پندرہ دن قبل جاری ہونے والے حتمی انہدام کے فیصلوں کے بعد کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا ظالمانہ طریقہ کار ہے جس میں قابض دشمن اپنے عملے کے ذریعے مسماری کروانے کے بجائے فلسطینی خاندانوں پر ہی مسماری کے اخراجات اور بوجھ ڈال دیتا ہے۔
گورنری نے بتایا کہ پہلے مکان میں محمد توفیق زعترہ اپنی اہلیہ اور تین بیٹیوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے، جبکہ دوسرے مکان میں خالد زعترہ اور ان کی اہلیہ رہتے تھے، اور تیسرا مکان توفیق زعترہ اور ان کے آٹھ رکنی خاندان کا مسکن تھا۔
خود ساختہ مسماری کا مطلب یہ ہے کہ گھر کے مالکان کو اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی گھروں کو تباہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ وہ بھاری اخراجات سے بچ سکیں جو قابض بلدیہ اپنی مشینری کے ذریعے انہدام کی صورت میں عائد کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد جرمانے جمع ہونے سے بچنا اور پڑوسی مکانات کو نقصان سے محفوظ رکھنا بھی ہوتا ہے۔
یہ اقدام اس پالیسی کا حصہ ہے جو مقبوضہ بیت المقدس کے خاندانوں کو اپنے گھر خود گرانے پر مجبور کرتی ہے، جس سے انہدام کے فیصلوں کے نتیجے میں ان پر پڑنے والے مالی اور نفسیاتی بوجھ میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
