Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس کا فلسطینی عوام سے اسرائیلی جارحیت کے خلاف اتحاد کا مطالبہ

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کو جن اسرائیلی حملوں اور خلاف ورزیوں کا سامنا ہے، ان کے جواب میں وحدت، مزاحمت، زمین اور املاک پر ڈٹے رہنے اور حقوق کو تھامے رکھنے اور ہر ممکن ذرائع سے ان کے دفاع کا تقاضا کرتے ہیں۔

’حماس‘ کے رہنما عبدالرحمن شدید نے ایک پریس بیان میں کہا کہ مغربی کنارے کو قتل، یہودیانے، زمینوں پر ناجائز قبضے اور فلسطینیوں کو ان کے دیہاتوں اور قصبوں سے بے گھر کرنے کی کوششوں کا سامنا ہے۔

عبدالرحمن شدید نے فلسطینی عوام کو آپس میں متحد ہونے، شہداء کے لواحقین اور تباہ شدہ گھروں کے مالکان کی مدد کرنے، ہر ممکن طریقے سے ان کی معاونت کرنے، انہیں گلے لگانے اور ان کی ہمت و استقامت کو بڑھانے کی دعوت دی تاکہ قابض اسرائیل کو گھروں کو گرانے اور تباہ کرنے کے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے سے روکا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی کنارے میں شہداء اور مزاحمت کاروں کے گھروں کو تباہ کرنے کی قابض اسرائیلی پالیسی فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین سے جڑے رہنے اور یہودی آباد کاروں اور قابض اسرائیل کی فوج کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے نہیں روک سکے گی۔

انہوں نےکہا کہ نابلس کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں تل میں شہید فاروق رمضان کے گھر کو دھماکے سے اڑانا، ان کے الفاظ میں قابض اسرائیل کی سفاکیت اور فلسطینی عوام کے خلاف دہشت گردی اور اجتماعی سزا کے تمام ذرائع استعمال کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔

قابض اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح تل میں شہید فاروق رمضان کے اہل خانہ کا گھر اس الزام میں دھماکے سے اڑا دیا کہ وہ چوبیس جولائی سنہ 2026ء بروز جمعہ گاؤں میں کیے گئے اس قتلِ عام کے دوران ایک افسر اور ایک فوجی کو ہلاک کرنے کے ذمہ دار تھے، جس کے جواب میں کی گئی کارروائی کے نتیجے میں چار فلسطینی شہری شہید اور دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

قابض اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں بالخصوص الخلیل، جنین اور طوباس کی گورنریوں میں کئی فلسطینی تجارتی اور رہائشی تنصیبات کو مسمار کر دیا ہے۔

مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کی افواج اور یہودی آباد کاروں کے حملوں میں شدید اور بے مثال اضافہ دیکھا جا رہا ہے، چنانچہ دیوار اور بستیوں کے خلاف مزاحمت کے کمیشن نے سنہ 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران یہودی آباد کاروں کی جانب سے تین ہزار چار سو اٹھاسی سے زائد حملوں کے ارتکاب کو دستاویزی شکل دی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan