فرانس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یورو میڈیٹیرین آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل یونیسیف کے نیوٹریشن گروپ کی سنہ 2026ء کی رپورٹ کے اعداد و شمار کو منتخب اور گمراہ کن انداز میں استعمال کر کے غزہ کی پٹی میں شہریوں کو بھوکا مارنے کے جرم سے خود کو بری کرنے کے لیے حقائق کو مسخ کر رہا ہے، تاکہ سنہ 2025ء کے فوڈ سکیورٹی کے مربوط مرحلہ وار درجہ بندی کے اعلان کردہ قحط کے اشاریوں کی تردید کی جا سکے۔
آبزرویٹری نے پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا کہ قابض اسرائیل کی طرف سے پروپیگنڈا کیا جانے والا 0.5 فیصد کا تناسب خصوصی طور پر شدید غذائی قلت کی پیمائش کے لیے “وزن بمقابلہ قد” کے اشاریے پر مبنی ہے، جبکہ دیگر زیادہ جامع اشاریوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے، کیونکہ “بازو کے وسط کا گھیرا” کا ڈیٹا 1.3 فیصد کی شرح ظاہر کرتا ہے، دونوں اشاریوں کا ایک ساتھ حساب لگانے پر بھی یہی شرح بنتی ہے، جو نتائج کو مکمل طور پر چھپانے اور مطالعے کے حتمی نتیجے کے طور پر سب سے کم ہندسے کی ترویج کرنے کی کھلی ارادے کی عکاسی کرتی ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس تناسب کا عملی مطلب یہ ہے کہ مطالعہ کرنے کے دوران 5 سال سے کم عمر کے ہر 77 بچوں میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے، اس بات کی تأکید کے ساتھ کہ یہ اعداد و شمار ایک محدود مدت کی عکاسی کرتے ہیں اور اس میں پچھلے یا بعد کے کیسز یا بار بار بگڑنے والی حالتیں شامل نہیں ہیں۔
آبزرویٹری نے اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل نے بچوں کی خوراک کی صورتحال کے جائزے میں ایک انتہائی اہم اشاریے یعنی “بونے پن” کو نظر انداز کر دیا، جو کہ 12.2 فیصد تک پہنچ چکا ہے، یعنی تقریباً ہر آٹھ بچوں میں سے ایک بچہ، جو طویل مدتی خوراک سے محرومی اور دائمی تناؤ کی عکاسی کرتا ہے، جس کی پیمائش اس محدود کمزوری کے اشاریے سے نہیں کی جا سکتی جس پر قابض اسرائیل کا بیانیہ مبنی ہے۔
اس سیاق و سباق میں آبزرویٹری نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل کی طرف سے غزہ کا جرمنی اور فن لینڈ جیسے ممالک کے ساتھ موازنہ کرنا ایک حساّبی فریب کی نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ اس نے ایک ہی اور الگ تھلگ اشاریے پر انحصار کیا، جبکہ مختلف سالوں کا ڈیٹا کتر بونت کر کے پیش کیا، جو اس موازنے کی کسی بھی سائنسی یا منہجیاتی قدر کو بالکل ختم کر دیتا ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ مطالعے میں غزہ کی پٹی کی صرف 83 فیصد آبادی کو شامل کیا گیا، جبکہ سکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے 3.58 لاکھ سے زیادہ افراد کو باہر رکھا گیا، جس کی وجہ سے اس طبقے کی خوراک کی حالت نامعلوم ہے، اور یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے حالات بہتر ہیں، خاص طور پر محاصرے اور عسکری کشیدگی کے حالات میں۔
آبزرویٹری نے اس بات پر زور دیا کہ مطالعے میں یہ نتیجہ نہیں نکالا گیا کہ قحط کا وجود نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ کار جون سنہ 2026ء کے دوران تھوڑی مدت کی حالت کی پیمائش تک محدود تھا، جبکہ مرحلہ وار درجہ بندی کے مطابق قحط کا اعلان ایک مخصوص وقتی اور مکانی تناظر سے جڑا ہوتا ہے اور یہ خوراک کے استعمال، غذائی قلت اور اموات سمیت مرکب اشاریوں پر مبنی ہوتا ہے.
اس نے اشارہ کیا کہ جولائی میں جاری ہونے والی فوڈ سکیورٹی کے مربوط مرحلہ وار درجہ بندی کی تازہ ترین رپورٹس قابض اسرائیل کے دعووں کی دھجیاں اڑاتی ہیں، کیونکہ انہوں نے تصدیق کی کہ ریکارڈ کی گئی بہتری معمولی ہے اور امداد کی فراہمی سے جڑی ہوئی ہے، اس خدشے کے ساتھ کہ سال کے آخر تک تقریباً 1.4 ملین افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کی سطح کا سامنا کرنا پڑے گا، اور اپریل سنہ 2027ء تک 74 ہزار سے زیادہ بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کی ضرورت ہوگی۔
آبزرویٹری نے قابض اسرائیل پر یونیسیف کی رپورٹس کے ساتھ دوہرے معیار کا برتاؤ کرنے کا الزام عائد کیا، کیونکہ جب وہ کچھ اشاریوں کو مسخ کرتی ہے تو ان کا سہارا لیتی ہے، اور جب ان رپورٹس میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے بمباری، فائرنگ اور ڈرون کے استعمال سے گھروں اور سکولوں کے اندر روزانہ ایک بچے کی اوسط سے 265 فلسطینی بچوں کی شہادت کی توثیق کی جاتی ہے تو وہ انہیں یکسر نظر انداز کر دیتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض اسرائیلی وزارت خارجہ نے فریب کاری کا پردہ چاک ہونے کے بعد بعد میں ایک ایسی پوسٹ کو حذف کر دیا جس میں اس ڈیٹا کا استعمال کیا گیا تھا، لیکن پروپیگنڈا کرنے والے ادارے اس گمراہ کن تناسب کی ترویج جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ غزہ کی پٹی میں بھوکا مارنے کے جرم کے شواہد کو کمزور کیا جا سکے۔
آبزرویٹری نے اس بات پر سختی سے زور دیا کہ ان تناسب کا بہانہ بنانا دفاع کی کوئی قانونی بنیاد فراہم نہیں کرتا، یہ واضح کرتے ہوئے کہ بھوکا مارنے کا جرم غذائی قلت کی ایک مخصوص سطح تک پہنچنے یا قحط کے سرکاری اعلان سے نہیں جڑا ہوتا، بلکہ یہ محض شہریوں کو ان کے بقا کے عناصر سے جان بوجھ کر محروم کرنے سے پایا جاتا ہے، جس میں انسانی امداد کی آمد کو منظم طریقے سے روکنا بھی شامل ہے۔
