مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس میں قابض بلدیہ نے ابو سرحان خاندان کو شہر کے جنوب میں واقع بلدہ جبل المکبر میں بغیر لائسنس تعمیرات کا بہانہ بنا کر زبردستی دو رہائشی اپارٹمنٹس مسمار کرنے پر مجبور کر دیا۔
ان دونوں اپارٹمنٹس میں خاندان کے 10 افراد رہائش پذیر تھے، جو مقبوضہ بیت المقدس کے محلے میں قابض حکام کی طرف سے جاری منظم انہدام کی پالیسی کے تناظر میں بے گھر ہونے کے خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں۔
اسی سلسلے میں قابض فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ میں دو دن تک جاری رہنے والے فوجی آپریشن کے دوران سات گھر اور متعدد تنصیبات مسمار کر دیں، اس کے علاوہ دجنوں گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور بعض کو فوجی بیرکوں میں تبدیل کر دیا۔
جبل المکبر اور قلندیا میں انہدام کی یہ کارروائیاں مقبوضہ بیت المقدس کے باسیوں کے خلاف قابض دشمن کی سزاؤں اور جبری نقل مکانی کی پالیسیوں میں اضافے کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ان پر گھیرا تنگ کرنا اور شہر کو اس کے اصل باسیوں سے خالی کرنا ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے قصبوں اور کیمپوں کو نشانہ بنانے والا اور مسلسل دوسرے روز بھی قلندیا کیمپ میں جاری قابض صہیونی دشمن کا یہ جارحانہ اقدام مقدسیوں کے عزم اور اپنی سرزمین اور مقدسات کے ساتھ ان کے وابستگی کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔
اس نے واضح کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کے باقی علاقوں کو بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، تذلیل، توڑ پھوڑ، انہدام، گھروں کو فوجی بیرکوں میں تبدیل کرنے اور یہودی آباد کاروں کے غنڈوں کی طرف سے منظم دہشت گردی کا جو سامنا ہے، وہ الحاق اور ایک نئی یہودیت سازی کی حقیقت مسلط کرنے کے لیے قابض دشمن کے مجرمانہ فاشسٹ منصوبوں کا عملی نفاذ ہے۔
اس نے اس بات پر زور دیا کہ قابض دشمن اور اس کے آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے جرائم ہمارے عوام کو مزید صمود، مقابلے، مزاحمت کے آپشن سے وابستگی اور مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ المبارک کے تحفظ کے عزم کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف مائل نہیں کریں گے۔
