غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جب آسمان سے اگست کی آگ برستی ہے اور موسم گرما اپنے تمام تر قہر سامانی کے ساتھ ہستی کو جھلسانے لگتا ہے، تو محصور غزہ پٹی کے باسی قابض صہیونی عقوبت خانے جیسے اس محاصرے میں تاریخ کے کربناک ترین اور سفاک ترین دور سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ یہاں بجلی کی مسلسل اور ظالمانہ بندش نے زندگی کے ہر چراغ کو گُل کر رکھا ہے، جہاں پانی کا ایک ٹھنڈا گھونٹ نصیب ہونا یا چند لمحوں کے لیے پنکھے کی پُرسکون ہوا ملنا ہزاروں بے بس اور تڑپتے خاندانوں کے لیے ایک ایسا سراب بن چکا ہے جو سحر انگیز خواب کی طرح صرف خیالوں میں ہی جیتا ہے۔
بجلی کا یہ ماتم اب محض گھروں کے اندھیروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے انسانی زندگی کے رگ و پے میں اتر کر روزمرہ کے ان انتہائی نازک معمولات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جن کے بغیر سانس لینا بھی محال ہو جاتا ہے۔
وہ ریفریجریٹرز جو کبھی زندگی کی تازگی کو سنبھالتے تھے اب بے جان تابوت بن چکے ہیں جہاں پانی ٹھنڈا ہو سکتا ہے اور نہ ہی غذا کی حفاظت ممکن ہے۔ ائل کنڈیشنگ اور پنکھے محض بے حس ڈھانچے بن کر رہ گئے ہیں، جب کہ مظلوم عوام بے گھری کے ان خیموں یا سفاکیت کے شکار اور جزوی طور پر ملبے کا ڈھیر بننے والے گھروں کے اندر قیامت خیز حبس اور جھلسا دینے والے درجہ حرارت میں لمحہ لمحہ گھٹنے پر مجبور ہیں۔
سفاک گرمی کے اندھیروں میں سسکتی پیاس
غزہ شہر کے مغربی حصوں میں ایک تپتے ہوئے خیمے میں پناہ لینے والی بے گھر ماں امِ محمد سسکتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کے معصوم بچوں کو بھوک کا دکھ اتنا نہیں تڑپاتا جتنا اس تپتی ہوئی آگ میں پیاس کی شدت نڈھال کر دیتی ہے۔
وہ ہمارے نامہ نگار سے دل چیر دینے والی داستان بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’میرے جگر کے ٹکڑے مجھ سے ٹھنڈا پانی مانگتے ہیں، مگر میرے پاس اس ظالم موسم کے کھولتے ہوئے پانی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہم اکثر اپنے بچوں کی خاطر پانی کی بوتلیں گھنٹوں سائے میں اس ٹوٹے ہوئے یقین کے ساتھ رکھ دیتے ہیں کہ شاید ان کی حدت کچھ کم ہو جائے، مگر یہ کوشش بھی ریت پر پانی گرانے جیسی بے سود ثابت ہوتی ہے‘‘۔
دوسری طرف پانچ معصوم بچوں کے باپ ابو احمد اپنے سینے میں اٹھنے والے طوفان کو دباتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح بجلی کے اس لق و دق اندھیرے نے ان کے گھر سے زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی راحت بھی چھین لی ہے۔ ان کا درد بھرا لہجہ کہتا ہے کہ ’’ہم نے تو اب پنکھے کی ہوا کو دیکھے بھی ایک زمانہ بیت گیا ہے۔ میرے معصوم بچے اس شدید ترین حبس میں ایک پل بھی سو نہیں پاتے۔ ہم پوری پوری رات جاگ کر کبھی گتے کے ٹکڑوں اور کبھی بھیگے ہوئے تولیوں سے انہیں ہوا جھلتے رہتے ہیں تاکہ ان کی سانسوں کی ڈور نہ ٹوٹ جائے‘‘۔
خشکی کا عذاب اور روح کو چیرتا تناؤ
یہ درد صرف وقتی بے تکلیف کا نہیں ہے، بلکہ غاصب دشمن کی مسلط کردہ اس تپش نے طبی حلقوں کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ ماہرینِ طب نے پکار پکار کر خبردار کیا ہے کہ اس طویل اور جان لیوا گرمی کا سامنا کرنا انسانی جسم میں پانی کی شدید کمی یعنی خشکی اور ہولناک حرارتی تناؤ کو جنم دے رہا ہے۔ معصوم بچے، ضعیف بزرگ اور وہ بدقسمت مریض جو پہلے ہی مختلف دائمی بیماریوں کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس عذابِ مسلسل کا سب سے بڑا ہدف ہیں۔ یہ سب ایسے عالم میں ہو رہا ہے جب غزہ کے نادار اور تباہ حال ہسپتال ایندھن اور توانائی کے فقدان کے باعث موت اور زندگی کی آخری جنگ لڑ رہے ہیں۔
ایک باضمیر جنرل فزیشن ڈاکٹر احمد السعدی اس ہولناک صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ٹھنڈک کے تمام ذرائع چھن جانے کے بعد یہ تپش انسان کو سن رسیدہ اور فالج زدہ کرنے والی تپشِ آفتاب اور اندرونی خشکی کی کھائی میں دھکیل دیتی ہے۔ وہ کرب بھرے لہجے میں کہتے ہیں ’’ہمارے ننھے بچے اس عذاب کا سب سے آسان شکار ہیں کیونکہ ان کے نازک جسم پل بھر میں تمام اندرونی سیال کھو دیتے ہیں۔ بیماروں اور ضعیفوں کو ایک پُرسکون اور سازگار ماحول کے ساتھ پانی کی مسلسل ضرورت ہوتی ہے، مگر آج اس محاصرہ زدہ دھرتی پر یہ معمولی سی آس بھی ایک ناپید حقیقت بن چکی ہے۔‘‘
انسانیت کا سسکتا ہوا بحران
توانائی کے امور کے دیدہ ور انجینئر سامر الخطیب اس المیے کو بیان کرتے ہوئے اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ بجلی کا یہ تعطل اب محض ایک سروس کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا انسانی المیہ بن چکا ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ وہ پکار کر کہتے ہیں کہ بجلی کے اس تسلسل کا غائب ہو جانا پانی کے ان چشموں اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کو مفلوج کر رہا ہے جن پر حیات کا انحصار ہے، یہ معصوم بچوں کی غذا اور مریضوں کی ادویات کو ضائع کر رہا ہے، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سسکتے ہوئے شہریوں پر غموں کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔
بازاروں کی بے رونق گلیوں میں دکاندار ابو یوسف آہ بھر کر اس تلخ سچائی کا اعتراف کرتے ہیں کہ جب کبھی غریب عوام کی قسمت سے کہیں سے برف یا ٹھنڈے پانی کی کوئی ہلکی سی رمق میسر آ جاتی ہے تو طلب کا سمندر امڈ آتا ہے، مگر یہ پیاسے سمندر کے سامنے قطرے جیسی مقداریں ان لاکھوں پیاسوں کی پیاس کیسے بجھا سکتی ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ ٹھنڈا پانی آج غزہ کے باسیوں کے لیے ایک نایاب اور قیمتی ترین ہیرا بن چکا ہے۔
اس روح فرسا گرمی کی لہر کے دامن میں، غزہ کے یہ سرفروش باسی اپنے بچوں کی سسکیاں تھمانے کے لیے ہر ممکنہ اور ناممکنہ جتن کر رہے ہیں۔ کوئی جلتی ہوئی چھاؤں میں بیٹھ کر صبر کا دامن تھامے ہے، کوئی ہندسوں سے عاری دستی پنکھے جلا رہا ہے، تو کوئی اپنے تپتے ہوئے معصوم جگروں پر پانی چھڑک کر ان کے جلتے جسموں کو ڈھارس بندھا رہا ہے۔ یہ وہ دلخراش مناظر ہیں جو اس روزمرہ کی سفاکیت اور مظلومیت کی داستان سناتے ہیں جسے یہ خطہ ہر لمحہ جھیل رہا ہے۔
جب دنیا کے دوسرے کونے موسم گرما کی ان موجوں سے بچنے کے لیے راحتوں کے نئے جہان تلاش کرنے میں سرمست ہیں، تو غزہ کے یہ مظلوم باسی ایک بالکل الگ اور عرش کو ہلا دینے والی حقیقت کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہاں بجلی ایک نایاب خواب، پنکھا ایک دور کی عیش و آرام کی دنیا، اور پانی کا ایک ٹھنڈا گھونٹ ایک ایسی معصوم سی تمنا بن چکی ہے جو شاید ابدی سکون کے بغیر صرف چند لمحوں کے لیے ہی نصیب ہو، اگر کبھی نصیب ہونی بھی ہو۔
