Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

تباہ حال غزہ میں “العقلات” سواری، شہریوں کے لیے ناگزیر مگر جان لیوا سفر

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ پٹی میں ہسپتال، بازار یا پناہ گاہ تک پہنچنا اب کوئی عام سفر نہیں رہا بلکہ خطرات میں گھرا ایک خطرناک ایڈونچر بن چکا ہے۔ نسل کشی کی جنگ کے دوران نقل و حمل کے بیشتر ذرائع کی تباہی کے بعد “العقلات” نامی گاڑیاں ہزاروں شہریوں کے لیے ایک مجبوری کا آپشن بن کر ابھری ہیں، حالانکہ اس کے کہ سلامتی کے ادنیٰ ترین معیار سے بھی عاری ہیں۔

سڑکوں پر ان کے الٹنے اور خراب ہونے کے پے در پے حادثات کے ساتھ یہ سواری غزہ کے باشندوں کی تکلیف کا ایک نیا استعارہ بن چکی ہے، جو ہر روز خود کو ایک کٹھن مساوات کے سامنے پاتے ہیں: اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالیں یا اپنی بنیادی ضروریات تک رسائی کے بغیر گھر بیٹھے رہیں۔

حادثہ نقل و حمل کی خطرناک حقیقت پر انتباہ

شہرِ غزہ میں کابینہ کے دفتر کے قریب “العقلات” کی ایک گاڑی کے الٹنے کا حادثہ، جس کے نتیجے میں تین شہری زخمی ہو گئے جن میں سے ایک کا ہاتھ کاٹنا پڑا، نے اس سواری کے استعمال کے ساتھ جڑے خطرات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے، جب کہ یہ پٹی میں روزمرہ کی زندگی کا ایک حصہ بن چکی ہے۔

یہ اس وقت ہو رہا ہے جب جارحیت نے گاڑیوں کے بیڑے کا تقریباً ستر فیصد حصہ تباہ کر دیا ہے، جب کہ بڑی تعداد میں کاریں اور بسیں یا تو براہِ راست حملوں کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ اسپیئر پارٹس، انجن آئل اور ٹائروں کے داخلے پر پابندی کی وجہ سے ان کی مرمت ناممکن ہو چکی ہے، سروس سے باہر ہو چکی ہیں۔

جنگ کی مسلط کردہ سواری

نسل کشی کی جنگ کے تسلسل اور ایندھن کی شدید قلت کے ساتھ “العقلات” گاڑیاں غزہ کی پٹی کے تمام اضلاع میں پھیل چکی ہیں اور ہزاروں شہری ہسپتالوں، بازاروں، پناہ گاہوں اور امداد کی تقسیم کے مراکز تک پہنچنے کے لیے انہی پر انحصار کرتے ہیں۔

درجنوں ڈرائیوروں کو اپنا روزگار کھونے کے بعد یہی واحد ذریعہِ آمدنی ملا، جس نے اسے نقل و حمل کے عقبی ذریعے سے بدل کر پٹی کے باسیوں کو پیش آنے والے غیر معمولی حالات کی مسلط کردہ ایک روزمرہ حقیقت میں تبدیل کر دیا۔

ڈرائیور روزی روٹی اور حادثات کے خوف کے درمیان

“العقلات” کے ڈرائیور اکتالیس سالہ جواد أبو جزر کا کہنا ہے کہ اس گاڑی کو چلانا کوئی ذاتی پسند کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ یہ جنگ کے حالات کی مجبوری تھی جب ان کا ذریعہِ رزق ختم ہو گیا۔

انہوں نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ “العقلات کو چلانا آسان نہیں ہے، یہ کسی دوسری گاڑی جیسی نہیں ہے۔ اس میں حفاظت کا کوئی سامان موجود نہیں ہے، اس لیے ہم پورے راستے کسی بھی خرابی یا اچانک افتاد کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں”۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ خرابیاں روزمرہ کے کام کا ایک حصہ بن چکی ہیں، خواہ وہ تیل کی کمی کی وجہ سے ہوں یا ٹائر پھٹنے کی وجہ سے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب سواروں کو لے جاتے ہوئے کوئی خرابی واقع ہو جائے تو خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ گاڑی کی مرمت اب بیشتر ڈرائیوروں کی استطاعت سے باہر ہو چکی ہے، کیونکہ جنگ سے پہلے تیل کا ایک لیٹر تقریباً دس شیکل کا تھا جو اب بڑھ کر تقریباً تین ہزار شیکل کا ہو چکا ہے، جبکہ ایک ٹائر کی قیمت دس ہزار شیکل سے تجاوز کر گئی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ بہت سے ڈرائیوروں کو اصل تیل کے ختم ہونے کی وجہ سے نامعلوم معیار کا تیل استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جس سے خرابیاں اور بڑھ گئیں، انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “اگر گاڑی خراب ہو جائے تو کام رک جاتا ہے اور خاندان کی آمدنی رک جاتی ہے، لیکن جو چیز ہمیں سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے وہ مسافروں کی سلامتی ہے”۔

مریض متبادل کی غیر موجودگی کی قیمت چکانے پر مجبور

یہ تکلیف صرف ڈرائیوروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان ہزاروں مسافروں تک پھیل جاتی ہے جنہیں آنے جانے کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ملتا، بالخصوص مریضوں کو دہری پریشانی سے گذرنا پڑتا ہے۔

ام محمد مصلح جنہیں اپنے بچے کو تقریباً روزانہ شہرِ غزہ کے ایک ہسپتال میں لے جانا پڑتا ہے، کہتی ہیں کہ خطرے کے باوجود “العقلات” ہی واحد آپشن بن چکی ہے۔

انہوں نے ہمارے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اپنے بچے کو اس طریقے سے ہسپتال پہنچاؤں گی، لیکن اب ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ اگر مجھے کوئی کار مل بھی جائے تو اس کا کرایہ میری استطاعت سے زیادہ ہوتا ہے۔”

وہ اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ تباہ شدہ سڑکوں پر چلتے وقت گاڑی کے ہلنے کی وجہ سے پورا سفر تشویش میں گزرتا ہے مزید کہتی ہیں کہ “جب بھی العقلات کسی گڑھے میں اترتی ہے یا کسی ایک طرف جھکتی ہے تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ حادثہ کسی بھی لمحے ہو سکتا ہے”۔

وہ بیان کرتی ہیں کہ انہیں ایک سے زیادہ بار ایسے مواقع کا سامنا کرنا پڑا جو تباہی پر ختم ہونے کے قریب تھے، خواہ گاڑی کے اچانک جھکنے کی وجہ سے ہو یا راستے کے بیچوں بیچ خراب ہونے کی وجہ سے، جس کی وجہ سے مسافروں کو اتر کر کسی دوسری سواری کا انتظار کرنا پڑا۔

وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ “کوئی ایسا وقت نہیں گذرتا جب ہم کسی العقلات کے الٹنے یا مسافروں کے زخمی ہونے کی خبر نہ سنیں، لیکن ہم کیا کریں؟ اگر میں گھر پر بیٹھی رہی تو میرے بچے کا علاج کا وقت نکل جائے گا”۔

نقل و حمل کا شعبہ تباہی کے قریب

دوسری طرف غزہ میں پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کے نائب صدر جہاد اسلیم تصدیق کرتے ہیں کہ تیل، اسپیئر پارٹس، ٹائروں اور بیٹریوں کے داخلے پر مسلسل پابندی کے نتیجے میں نقل و حمل کا شعبہ مکمل بندش کے مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے ایک پریس بیان میں کہا کہ گاڑیوں کے مالکان اب اسپیئر پارٹس کا ذریعہ حاصل کرنے کے لیے پوری کی پوری کاریں خرید کر انہیں کھول رہے ہیں، کیونکہ نئے پرزے حاصل کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔

وہ خبردار کرتے ہیں کہ بحران اب صرف معاشی نہیں رہا بلکہ یہ شہریوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے، اور اشارہ کرتے ہیں کہ ٹائروں کی کمی کی وجہ سے بعض بسیں چھ کے بجائے صرف چار ٹائروں پر چل رہی ہیں، جو حادثات کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ مرمت کے سازوسامان کے داخلے پر پابندی کا تسلسل مزید گاڑیوں کو سروس سے باہر کر دے گا، جو شہریوں کو نقل و حمل کے ایسے متبادل ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور کر دے گا جو سلامتی کے ادنیٰ ترین معیار سے بھی محروم ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan