غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے واضح کیا ہے کہ قابض اسرائیلی ریاست کی طرف سے قتل و غارت گری کا سلسلہ روکنے اور اپنی تمام تر جارحیت کو ختم کرنے کا عزم ہی جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کی طرف بڑھنے کا بنیادی دروازہ اور پہلا لازمی زینہ ہے۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کا نفاذ قطعی طور پر اس بات سے مشروط ہے کہ قابض دشمن پہلے مرحلے کے تمام مندرجات اور شرائط پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
اپنے باضابطہ بیان میں حماس نے اس امر کی تصدیق کی کہ اس نے اور دیگر فلسطینی مزاحمتی دھڑوں نے ثالثوں کی طرف سے پیش کردہ تجاویز اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کو مکمل کرنے کے لیے مذاکراتی عمل کے ساتھ انتہائی ذمہ داری، لچک اور مثبت رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ سارا عمل فلسطینی دھڑوں کے مابین کامل قومی اتفاقِ رائے اور شراکت داری کی اس روح کے تحت انجام پایا جس کا بنیادی مقصد اپنے عوام کا دفاع کرنا، ان کی انسانی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا اور ان کے مقدس قومی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ معاہدے کے دائرہ کار میں بھاری ہتھیاروں کے فائل کو شامل کرنے کی موافقت اس واضح اور اٹل شرط کے ساتھ مشروط کی گئی ہے کہ دشمن تمام شکلوں میں جارحیت کا خاتمہ کرے، غزہ پٹی سے مکمل انخلا کرے، ابتدائی بحالی کے عمل کو شروع کرے، انتظامی کمیٹی کے داخلے کو یقینی بنائے، بین الاقوامی حفاظتی دستوں کی تعیناتی عمل میں لائے، قابض فوج کی طرف سے کھڑی کی گئی مسلح غنڈہ ٹولیوں اور ملیشیاؤں کا خاتمہ کرے، تعمیر نو کے عمل کی راہ ہموار کرے، اور حقِ خودارادیت، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور شہریوں کے تمام حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرے۔
بیان کے اختتام پر تحریک حماس اور تمام فلسطینی دھڑوں نے غزہ پٹی میں ڈٹے ہوئے اپنے غیور اور صابر عوام کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، اور اس بات کا پختہ عہد کیا کہ وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے تمام حقوق کی پاسداری کے لیے اس مقدس راستے پر شانہ بشانہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔
