Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

بین الاقوامی فوجداری عدالت کو درپیش دباؤ اور رکاوٹوں پر خصوصی رپورٹ

واشنگٹن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یورومیڈیرٹیرینین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (یورو میڈ آبزرویٹری) نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ختم کرنے اور دائرہ اختیار کو سلب کرنے کے لیے مربوط اقدامات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کا واضح ثبوت “وینزویلا” اور “چاڈ” کی طرف سے رومن قانون کے دائرہ کار سے نکلنے کے عمل کا باقاعدہ اعلان ہے۔

جمعرات کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں آبزرویٹری نے وضاحت کی کہ یہ پیش رفت امریکہ کی طرف سے عدالت کے خلاف کھلی غنڈہ گردی، اس کے عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرنے اور کچھ یورپی ممالک کی طرف سے اسرائیلی عہدیداروں کے وارنٹ گرفتاری پر سنجیدگی سے عمل نہ کرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آئی ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک راستہ ہے جس کا مقصد بین الاقوامی فوجداری نظامِ انصاف کو کمزور کرنا اور مظلومین کو احتساب کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا ہے تاکہ مجرموں کو کھلی چھوٹ مل سکے اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ پڑتا رہے۔

مذکورہ تنظیم نے چاڈ حکومت کی طرف سے عدالت سے نکلنے کے فیصلے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ یہ قدم وینزویلا کے اعلان کے چند دن بعد اٹھایا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے نائجر، مالی اور برکینا فاسو بھی ایسے ہی اقدامات کر چکے ہیں جو افریقہ اور اس سے باہر اس خطرناک رجحان کے پھیلاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق “چاڈ” کو دارفور کے تحقیقاتی معاملے میں کلیدی اور عملی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس کی سرحدیں براہِ راست دارفور سے ملتی ہیں اور وہ بڑی تعداد میں مہاجرین اور گواہوں کا میزبان رہا ہے۔ اس کے باوجود کہ اس کے نکلنے سے دارفور کے مقدمات میں عدالت کا قانونی دائرہ اختیار ختم نہیں ہوتا مگر اس سے متاثرین تک رسائی اور شواہد کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں ضرور پیدا ہوں گی۔

وینزویلا کے اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ادارے نے کہا کہ یہ فیصلہ اپریل سنہ 2017ء سے جاری اس تحقیقاتی عمل کے دوران سامنے آیا ہے جس میں ریاستی سکیورٹی اداروں اور حکومتی شخصیات کے ملوث ہونے کے شبہات ہیں۔ اس سے یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ بائیکاٹ کا عمل مجرموں کو بچانے کا آلہ نہ بن جائے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ وینزویلا اور چاڈ کے یہ فیصلے ایک منظم مہم کا حصہ ہیں جس کے دو بنیادی ستون ہیں: پہلا ستون امریکہ کی قیادت میں ہونے والا وہ بیرونی حملہ ہے جس میں اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے اور پابندیوں اور دھمکیوں کے ذریعے ممالک کو عدالت سے الگ ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے، جبکہ دوسرا ستون بعض رکن ممالک کی طرف سے اندرونی کمزوری ہے جو مطلوب افراد کی گرفتاری سے انکار کرتے ہیں۔

یورو مڈ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ امریکی صدر “ڈونلڈ ٹرمپ” کی انتظامیہ کی طرف سے ان فیصلوں کا خیرمقدم اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کا آغاز امریکی وزیر خارجہ “ماركو روبيو” نے تیرہ جولائی سنہ 2026ء کو عدالت کو توڑنے کے لیے باقاعدہ امریکی مہم کا اعلان کر کے کیا تھا۔

آبزرویٹری نے اس امر پر زور دیا کہ عدالت کے کام میں سستی اور سیاسی جانبداری جیسے نقائص پر تنقید تو جائز ہے مگر اس کی آڑ میں عدالت کو ہی ختم کر دینا یا اس کا بائیکاٹ کرنا کوئی حل نہیں ہے بلکہ اصلاحات اندر سے کی جانی چاہئیں تاکہ اس کے استقلال کو یقینی بنایا جا سکے۔

ادارے نے یاد دلایا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پری ٹرائل چیمبر نے اکیس نومبر سنہ 2024ء کو غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم “بنیامين نتنياهو” اور سابق وزیر دفاع “يوآف غالانت” کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جو اب بھی پوری طرح نافذ العمل ہیں۔ انہوں نے اس بات کی شدید مذمت کی کہ یونان، اٹلی اور فرانس جیسے ممالک نے نیتنياهو کی طیارے کو اپنے فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی جبکہ وہ جانتے تھے کہ اس کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہیں۔

بیان کے آخر میں یورو مڈ آبزرویٹری نے تمام متعلقہ فریقوں بالخصوص چاڈ اور وینزویلا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان فیصلوں کو واپس لیں اور بین الاقوامی عدالت کے ساتھ تعاون جاری رکھیں تاکہ مظلوموں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan