تحریر: عارف خان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)معاصر تاریخ میں 80 برس سے ایک بنیادی سوال امریکی فوجی حکمتِ عملی کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ سوال یہ تھا کہ کیا امریکہ اپنی سرزمین پر جنگ کے براہِ راست اخراجات منتقل کیے بغیر دنیا کے کسی بھی خطے میں اپنی فوجی طاقت استعمال کر سکتا ہے؟۔ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام سے لے کر آج تک اس سوال کا جواب زیادہ تر ہاں ہی رہا ہے۔ یہ جواب صرف امریکی عسکری قوت پر مبنی نہیں تھا بلکہ فوجی اڈوں، بحری بیڑوں، رسد و رسائل کے راستوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور علاقائی اتحادوں کے ایک وسیع نیٹ ورک پر قائم تھا۔ اسی نیٹ ورک نے امریکہ کی اسٹریٹجک گہرائی کو بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کے ساحلوں سے لے کر خلیج فارس، بحیرۂ روم اور مشرقی ایشیا تک پھیلا رکھا ہے۔
اس پورے نظام میں خلیج فارس نہایت اہم حیثیت رکھتی رہی ہے۔ کئی دہائیوں تک اس خطے میں امریکی فوجی موجودگی اس تصور پر قائم تھی کہ خلیج فارس کے ممالک میں اپنی افواج اور فوجی ڈھانچے کی مستقل تعیناتی کے ذریعے جنگی رسد کی ترسیل اور مختلف فوجی کارروائیوں کے لیے مکمل عملی آزادی کو ہر حال میں برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم خلیج فارس میں امریکہ کے مقابلے میں ایران کی ثابت قدمی، اپنی ڈیٹرنس صلاحیت اور مؤثر جوابی کارروائی کی قوت کے اظہار کے ساتھ، اس مساوات کو چیلنج کر چکی ہے جو تقریباً آٹھ دہائیوں سے امریکی فوجی حکمتِ عملی کی بنیادی اساس سمجھی جاتی رہی ہے۔
آج یہ سوال صرف واشنگٹن تک محدود نہیں رہا، بلکہ تل ابیب سے لے کر ان تمام ممالک تک، جہاں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں، تزویراتی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا امریکہ کی علاقائی عسکری پشت پناہی (Regional Strategic Depth) اب بھی اتنی محفوظ اور ناقابلِ آسیب ہے کہ اس کی بنیاد پر دور بیٹھ کر جنگ کا انتظام کیا جا سکے؟۔ اس کا جواب ہے، نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی ڈیٹرنس صلاحیت کو مضبوط بنایا، میزائل نظاموں کی رینج، دقت اور تباہ کن طاقت میں نمایاں اضافہ کیا، اور بیرونی حملوں و دباؤ کے مقابلے میں اپنی مؤثر جوابی صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔
اس کے نتیجے میں علاقائی طور پر سیکورٹی کی مساوات میں یہ حقیقت شامل ہو چکی ہے کہ اب کسی بھی جنگ کی قیمت صرف محاذِ جنگ تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس کے نتائج مخالف فریق کے لیے کہیں زیادہ وسیع ہوں گے۔ چنانچہ وہ مفروضہ، جو تقریباً اسی برس تک امریکی فوجی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون رہا، یعنی محفوظ فاصلے سے نسبتاً محدود لاگت کے ساتھ جنگ کا انتظام کرنا، اب ایک سنگین چیلنج سے دوچار ہو چکا ہے۔ اس لیے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی براہِ راست فوجی تصادم کی صورت میں نہ صرف امریکہ کے فوجی اڈے، رسد و رسائل کی لائنیں اور لاجسٹک انفراسٹرکچر نشانہ بن سکتے ہیں، بلکہ ان ممالک کا بنیادی ڈھانچہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے جہاں یہ امریکی فوجی اڈے قائم ہیں۔
اس صورتحال نے کسی بھی ممکنہ جنگ کی فوجی، سیاسی اور اقتصادی قیمت کو پہلے کے مقابلے میں نمایاں حد تک بڑھا دیا ہے۔ اب امریکہ اور اس کے دیگر اتحادیوں کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں رہا کہ کس کے پاس زیادہ میزائل ہیں یا کون زیادہ تباہ کن حملے کر سکتا ہے۔ اصل اور زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ ماضی کی طرح اسی لاگت اور اسی اعتماد کے ساتھ دور بیٹھ کر بحرانوں اور جنگی کارروائیوں کا انتظام جاری رکھ سکتا ہے؟۔ جب اس سوال کا جواب بدل گیا تو صرف ایک فوجی مساوات ہی تبدیل نہیں ہوئی، بلکہ گزشتہ 80 برس سے امریکی عالمی حکمتِ عملی کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ستون ہمیشہ کے لیے اپنی سابقہ حیثیت کھو بیٹھا۔
درحقیقت، اس تجزیے کے مطابق ایران کی ثابت قدمی کا سب سے بڑا حاصل کسی ایک جنگ یا کسی مخصوص فوجی کارروائی میں نہیں، بلکہ اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ اب امریکہ کی سرحدوں سے باہر رہ کر جنگ کا انتظام کرنا پہلے کی طرح کم لاگت، محفوظ اور پائیدار برتری نہیں رہا۔ علاقے کے نئے حالات، جدید عسکری ٹیکنالوجی، اور ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت نے 80 برس بعد اس بنیادی سوال کا جواب ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا ہے۔