Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی جارحیت نے غزہ کے تاریخی ورثے کو شدید نقصان پہنچایا، 97 فیصد مقامات متاثر

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ہیومن رائٹس پروٹیکشن سینٹر نے “غزہ کی پٹی میں ثقافتی ورثے کو منظم طریقے سے نشانہ بنانا بین الاقوامی جرائم کی قانونی دستاویزات اور احتساب کے افق” کے عنوان سے ایک قانونی رپورٹ جاری کی ہے جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ پر مسلط کی جانے والی جارحیت کے نتیجے میں اس خطے میں درج رجسٹرڈ تاریخی اور ثقافتی مقامات میں سے تقریبا 97 فیصد مقامات یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں شدید نوعیت کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔

حال ہی میں جاری ہونےوالی س رپورٹ میں مرکز نے وضاحت کی کہ یہ تباہی 325 میں سے 316 تاریخی مقامات تک پھیل چکی ہے جو فلسطینی ثقافتی ورثے کو نشانہ بنانے والے سفاکانہ حملے کے حجم کو واضح طور پر آشکار کرتی ہے جبکہ اس وسیع اور منظم ہدف کو فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے بین الاقوامی جرائم کے تناسخ سے کسی بھی طرح الگ نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ میں اس بات کی پختہ تصدیق کی گئی کہ تاریخی آثار قدیمہ، مذہبی اور ثقافتی مقامات کی تباہی کے ساتھ ساتھ عام شہری آبادی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنانا سینٹر کے قانونی نقطہ نظر کے مطابق نسلی کشی کے جرم میں شامل ہے کیونکہ یہ ایک ایسا بین الاقوامی جرم ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کے مادی وجود، تاریخی تشخص اور ان کی ثقافتی شناخت کو مٹانا ہے جس کے لیے بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے تحت سخت احتساب اور جوابدہی ناگزیر ہے۔

رپورٹ میں تاریخی مساجد، گرجا گھروں، عجائب گھروں، آثار قدیمہ کے بندرگاہوں، تاریخی ٹیلوں اور قدیم عمارتوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مکمل دستاویزات پیش کی گئیں جن میں العمری کبیر مسجد، سینٹ پورفیریوس چرچ، قصر پاشا، سینٹ ہلاریون کی خانقاہ، اینتھیڈن بندرگاہ، تل السکن اور تل العجول جیسے تاریخی ورثے شامل ہیں۔ یہ دستاویزات ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ذمہ دار مجاز اداروں کی طرف سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار اور رپورٹس پر مبنی ہیں۔

رپورٹ میں اس بین الاقوامی قانونی فریم ورک کا جائزہ لیا گیا جو ثقافتی املاک کو خصوصی تحفظ فراہم کرتا ہے جن میں سب سے نمایاں سنہ 1954ء کا ہیگ کنونشن،جنیوا معاہدوں کا پہلا اضافی پروٹوکول اور بین الاقوامی فوجداری عدالت روما کا قانونِ اساس شامل ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ محفوظ ثقافتی املاک کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جب کہ وہ کوئی عسکری اہداف نہ ہوں تو یہ ایک جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے ایک وسیع سلسلے کا حصہ ہے۔

مرکز نے اقوام متحدہ، یونیسکو اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ثقافتی ورثے کے خلاف کیے جانے والے ان جرائم کو جاری بین الاقوامی تحقیقات میں شامل کریں کیونکہ یہ رپورٹ میں درج کردہ مجموعی مجرمانہ اقدامات کا ایک اہم جزو ہیں اور مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ کوئی بھی ذمہ دار قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔

مرکز نے اس بات پر زوردیا کہ ثقافتی ورثے کا تحفظ ایک بین الاقوامی قانونی ذمہ داری ہے اور اس پر حملہ صرف عمارتوں اور آثارِ قدیمہ کو نقصان پہنچانے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ اقوام کی یادداشت، ان کی شناخت اور ان کے تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھنے کے حق پر براہِ راست ضرب لگاتا ہے۔ اس امر کے لیے ایک فوری بین الاقوامی اقدام کی ضرورت ہے تاکہ قطاع غزہ میں باقی بچ جانے والے ثقافتی ورثے کی حفاظت کی جا سکے اور انحرافات کے مرتکب افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan