مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) نیشنل اتھارٹی فار فلسطین پاپولر ایکشن نے زور دیا ہے کہ مسئلہ فلسطین اپنی تاریخ کے انتہائی خطرناک ترین مراحل سے گذر رہا ہے، خصوصاً ایسی حالت میں جب قابض اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلسل جنگ مسلط ہے، مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں جبری بے دخلی اور یہودی آباد کاروں کی بستیوں کی توسیع کی گھناؤنی پالیسیاں عروج پر ہیں جبکہ دوسری طرف عوامی امنگوں اور قومی اداروں کی شدید تعطل کے نتیجے میں فلسطینی سیاسی نظام کے اندر ایک غیر معمولی بحران نے جنم لیا ہے۔
پاپولر ایکشن اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کی نقل مرکز اطلاعات فلسطین کو موصول ہوئی ہے جس میں واضح کیا گیا کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران فلسطینی عوام کو ان کی اپنی قیادت کے انتخاب سے محروم رکھنا قومی منصوبے کی کمزوری، اندرونی تقسیم کاری کے گہرے ہونے، اداروں پر سے اعتماد کے فقدان اور فلسطینی عوام، ان کے حقوق اور ان کے مستقبل کو ہدف بنانے والے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے زوال کا سبب بنا ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس بحران کی جڑیں انتخابات کی تاریخ یا قانونی کارروائیوں سے نہیں جڑی ہیں بلکہ اصل مسئلہ قانونی حیثیت کے بنیادی سرچشمے کا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ قانونی حیثیت ہمیشہ عوام کی میراث رہتی ہے اور اسے کسی ایسے استحقاق میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جسے یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے چلایا جائے۔
ادارے نے اس بات کو سختی سے اجاگر کیا کہ “عوام کی مرضی سے بڑھ کر کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی اس مرضی کو جان بوجھ کر پسِ پشت ڈالنے سے کوئی قانونی حیثیت باقی رہ سکتی ہے۔” انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عوامی مرضی کے بغیر قانونی حیثیت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ہر کوشش یا قوانین، حکومتی احکامات اور سیاسی بندوبست کے ذریعے اس کے گرد چکر کاٹنے کی کوشش بحران کو مزید گہرا کرنے، قومی اتحاد اور سیاسی تنوع کو شدید خطرے سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہےکہ سیاسی نظام کی از سر نو تعمیر جمہوریت کے اصولوں کو اپنانے سے شروع ہوتی ہے جن میں سر فہرست انتخابات کا انعقاد ہے کیونکہ یہ تنظیم آزادی فلسطین کے نظام کے تحت ایک تسلیم شدہ اور بنیادی حق ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے بنیادی نعرے کا اعلان کیا: “تقرری نامنظور… انتخابات منظور۔”
ادارے کی رائے میں قومی قانونی حیثیت نہ تو خیرات میں دی جاتی ہے اور نہ ہی اس پر کسی کا اجارہ ہو سکتا ہے بلکہ یہ وطن اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے فلسطینی عوام کی آزاد مرضی سے حاصل ہوتی ہے اور اس کی تجدید بھی صرف اسی کی آزادانہ رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے جبکہ سیاسی نظام کی تشکیلِ نو کا آغاز اس کی قانونی حیثیت کی از سر نو بحالی سے ہوتا ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ انتخابات محض ایک سیاسی اور آئینی حق نہیں ہیں بلکہ ایک ایسا ٹھوس اور اصلی ذریعہ ہیں جو اس حقیقت کو جواز بخشنے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتے جس کا عوام پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے، اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ انتخابات داخلی تقسیم کو ختم کرنے اور قومی اداروں کی تجدید کا طبعی دروازہ فراہم کرتے ہیں۔
اس نے مطالبہ کیا کہ تنظیم آزادی فلسطین کو ایک جمہوری اصولوں کے تحت منتخب ہونے والی فلسطینی قومی کونسل کی تشکیل کے ذریعے دوبارہ تعمیر کیا جائے کیونکہ یہی وہ جامع ادارہ ہے جو فلسطینی عوام کی حقیقی نمائندگی کرتا ہے۔ ادارہ اس بات کا قائل ہے کہ قومی اور سیاسی تبدیلیاں اب دھڑے بند کوٹہ سسٹم کے مراحل کو پیچھے چھوڑ چکی ہیں اور قوتوں کا حقیقی وزن تاریخی فیکشنز کی مروجہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کی مرضی پر منحصر ہونا چاہیے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ قومی مذاکرات کا نتیجہ ایک ایسے قانونی ادارے کی تشکیل کی صورت میں ظاہر ہونا چاہیے جو ان نامساعد حالات میں قومی کونسل کے اراکین کے انتخاب کے میکانزم کا تعین کرے جہاں انتخابات کا انعقاد ناممکن ہو، بشرطیکہ یہ استثنائی حالات کبھی بھی کوئی مستقل ضابطہ نہ بنیں اور نہ ہی عوام کے اپنے نمائندوں کے انتخاب کے حق کو چھیننے کا کوئی بہانہ بنیں۔
ادارے نے ہر اس قانون، صدارتی فرمان یا سیاسی شرط کو یکسر مسترد کر دیا جو کسی بھی شہری یا دھڑے کو اس کے سیاسی شرکت کے حق سے محروم کرے، اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہ نامزدگی اور انتخاب کا حق ایک بنیادی اور اصولی حق ہے جسے قانون اور آزاد عدلیہ کے فیصلوں کے علاوہ کسی بھی طرح سلب نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح انہوں نے تقرری، سیاسی رسہ کشی اور اس کوٹہ سسٹم کی تمام شکلوں کو بھی مسترد کر دیا جو عوامی مرضی کی جگہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قانونی حیثیت کی بحالی قومی آزادی کی طویل جنگ کا ایک لازمی حصہ ہے، نہ کہ کوئی معمولی انتظامی یا تنظیمی مسئلہ۔ انہوں نے اس بات کی بھی تأکید کی کہ قابضین اور بستیوں کے توسیع پسندانہ عزائم کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو اپنی قانونی حیثیت عوام کے بھروسے سے حاصل کریں، ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو عوام کے دیے گئے مینڈیٹ پر تکیہ کرے اور ایک ایسے سیاسی نظام کی ضرورت ہے جو شراکت داری اور احتساب کے اصولوں پر استوار ہو۔
ادارے نے تمام سیاسی قوتوں، قومی شخصیات، یونینز، یونیورسٹیوں، سول سوسائٹی کے اداروں اور وطن و دنیا بھر میں آباد فلسطینی برادریوں کو دعوت دی کہ وہ فلسطینی عوام کے اپنی قومی قانونی حیثیت کی تجدید کے حق کا دفاع کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں متحد کریں اور منصفانہ، شفاف اور جامع انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
انہوں نے اس عزم کا برملا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کا پوری طاقت سے مقابلہ کرنے کے لیے تمام تر جائز عوامی، سیاسی اور قانونی ذرائع استعمال کریں گے جو عوام کے اپنے نمائندوں کے انتخاب کے حق کو کمزور کرتا ہو یا ان کی آزاد مرضی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کا مقصد اس اصول کو دوبارہ زندہ کرنا ہے کہ عوام ہی قانونی حیثیت کا اصل سرچشمہ اور تمام فیصلوں کے حقیقی مالک ہیں اور وہی تنہا اپنی قیادت کو مینڈیٹ دینے اور اپنے اداروں کو سنوارنے کا حق رکھتے ہیں جو ایک ایسے جمہوری اور قومی نظام کی تشکیل کی بنیاد فراہم کرتا ہے جو آزادی کے اس طویل مرحلے کی قیادت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔
