رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) کلب برائے اسیران نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں 24,600 سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔ کلب کا کہنا ہے کہ اس مدت کے دوران گرفتاری کی پالیسی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
کلب نے پریس بیان میں واضح کیا کہ قابض اسرائیل نے گرفتاری کو فلسطینیوں کے خلاف اجتماعی انتقام اور سزا کے نمایاں ترین آلات میں سے ایک میں تبدیل کر دیا ہے، جس نے مختلف طبقات اور زمروں کو نشانہ بنایا، جو فلسطینی معاشرے کو کمزور کرنے اور اس کی استقامت کے عناصر کو تباہ کرنے کے مقصد سے چلائی جانے والی ایک وسیع مہم کا حصہ ہے۔
انہوں نے بیان کیا کہ اعلانیہ گرفتاریوں کی تعداد صرف مغربی کنارے تک محدود ہے اور اس میں غزہ کی پٹی کے وہ قیدی شامل نہیں ہیں، جن کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے، جب کہ جبری گمشدگی، جاری خلاف ورزیوں اور انہیں درپیش سخت قید کے حالات کی وجہ سے دستاویزی اور مانیٹرنگ کی مشکلات کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ گرفتاری کی مہمات نے فلسطینی معاشرے کے مختلف زمروں کو نشانہ بنایا، کیونکہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک گرفتار ہونے والی خواتین کی تعداد 785 سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ مغربی کنارے میں بچوں کی گرفتاری کے کیسز 1900 سے آگے نکل گئے ہیں، یہ پالیسی عام شہریوں کو ہدف بنانے کی منظم پالیسی کے تسلسل میں ہے، جو کہ بین الاقوامی انسانی قانون اور شہریوں کے تحفظ کے معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
کلب برائے اسیران نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اعداد و شمار گرفتاری کی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، جو اب محض ایک سکیورٹی اقدام تک محدود نہیں رہی، بلکہ خوفزدہ کرنے، تابع کرنے اور اجتماعی انتقام پر مبنی جامع جبر کے نظام کا ایک لازمی حصہ بن گئی ہے اور اس کے ساتھ جیلوں، تفتیشی مراکز اور کیمپوں کے اندر وسیع خلاف ورزییں بھی شامل ہیں، جن کی تصدیق ماہر اداروں نے سیکڑوں گواہیوں اور بیانات کے ذریعے کی ہے۔
بیان کے مطابق قابض اسرائیلی حکام اس وقت تئیس (23) سے زیادہ جیلوں، تفتیشی اور حراستی مراکز میں تقریباً 9400 فلسطینی اسیروں کو قید رکھے ہوئے ہیں، جن میں 95 خواتین اسیر اور 380 کم عمر بچے شامل ہیں۔
کلب نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل کی جیلوں کے اندر اسیروں کے حالات زندگی غیر معمولی ابتری کا شکار ہیں، منظم تشدد، بھوک اور جان بوجھ کر طبی غفلت کی پالیسیوں کے تسلسل کے سائے میں، جس کی وجہ سے بیان کے مطابق، اکتوبر سنہ 2023ء سے لے کر اب تک جیلوں کے اندر تقریباً100 اسیر شہید ہو چکے ہیں۔
