غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جس لمحہ رہائی پانے والے اسیر جبر المجدلاوي غزہ کی سرزمین پر وارد ہوئے وہ کوئی عام لمحہ نہیں تھا۔ آزادی کی پُرمسرت لہریں ماحول پر چھانے کی بجائے ایک فلک شگاف اور دل دہلا دینے والی چیخ سے گونج اٹھیں، ایک ایسی پکار جس نے قابض اسرائیل کی تاریک جیلوں میں سسکتے ہوئے ہزاروں فلسطینی اسیروں کے نوحوں اور کرب کو اپنے اندر سمیٹ لیا۔
یہ دردناک چیخ تقریباً ایک سال اور 9 ماہ کی طویل اور جانگداز اسیری کے بعد فضا میں بلند ہوئی، جس نے رہا ہونے والے اسیروں کی زبانی قید وبند کی ہولناک داستانوں کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے زندہ کر دیا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب انسانی حقوق کے بین الاقوامی اور مقامی ادارے حراست میں موجود افراد کی حالت زار کا راز فاش کرنے اور انہیں موت کے منہ سے بچانے کے لیے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
کرم ابو سالم کے راستے رہائی
قابض اسرائیل کی حکام نے گذشتہ روز غزہ سے تعلق رکھنے والے 60 اسیروں کو طویل ماہِ اسیری کے کٹھن مراحل کے بعد کرم ابو سالم کے راستے آزاد کر دیا، جن کا استقبال ان کے دل شکستہ اقارب اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے مخلص عملے نے کیا۔
غزہ کی خاک پر قدم رکھتے ہی اسیر جبر المجدلاوي کے ضبط کا بند ٹوٹ گیا، ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور ایک ایسی روح فرسا چیخ نے جنم لیا جس نے وہاں موجود ہر شخص کے دل کو چیر کر رکھ دیا۔ انہوں نے باآواز بلند پکارا: “یہ صرف میری چیخ نہیں ہے… یہ ہر اس مظلوم اسیر کی چیخ ہے جو اب بھی ان غاصب جیلوں کی نذر ہو رہا ہے”۔
ایک سال ،9 ماہ کی کڑی آزمائش
مجدلاوي نے درد بھرے لہجے میں بتایا کہ انہوں نے اسیری میں ایک سال اور 9 ماہ کا طویل عرصہ مصائب میں گذارا، جن میں سے 6 ماہ کا کرب ناک دورانیہ بدنامِ زمانہ “سديه تيمان” حراستی کیمپ کے اندر بیتا۔ انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ پوری اسیری کے دوران انہیں بیرونی دنیا کی ہر خبر سے بے خبر رکھ کر مکمل تنہائی میں ڈالا گیا۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ انہیں اپنی رہائی کا علم بالکل آخری لمحات میں ہوا، جب انہیں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے سپرد کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ عقوبت خانوں کے اندر موجود اسیر موت کے منہ میں نہایت ہی ہولناک اور صبر آزما حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
آہوں اور سسکیوں میں ڈوبی ہوئی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ “الفاظ کی کیا مجال کہ وہ اس عذاب کو بیان کر سکیں جو ہم نے جھیلا ہے۔ ہم نے بے پناہ ظلم سہا ہے اور ہمارے بھائی اب بھی موت کے منہ میں ہیں۔ ان پر جو بیت رہی ہے اسے الفاظ میں ڈھالنا ناممکن ہے”۔
مظلومیت کی داستانیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں
مجدلاوی کی یہ گواہی کوئی انوکھا استثناء نہیں تھا، بلکہ گذشتہ مہینوں کے دوران متعدد فلسطینی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے رہا ہونے والے دجنوں اسیروں کے بیانات کو دستبردار کیا ہے جن میں انہوں نے وحشیانہ مار پیٹ، روح فرسا تشدد، بھوک کی شدت، علاج کی بنیادی سہولتوں سے محرومی اور طویل عرصے تک تنہائی کی کوٹھریوں میں تڑپائے جانے کے انکشافات کیے ہیں۔ خصوصاً 7 اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے غزہ کے قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستانیں دل دہلا دینے والی ہیں۔
یہ ہولناک شہادتیں اسیروں کے حالاتِ قید کی یکساں اور لرزہ خیز تصویر پیش کرتی ہیں، جس نے انسانی حقوق کی تمام تنظیموں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ فوری طور پر آزادانہ تحقیقات کا آغاز کریں اور حراست میں موجود بے گناہ انسانوں کے حقوق کے احترام کی ٹھوس ضمانت طلب کریں۔
ہزاروں اسیر اب بھی آہنی سلاخوں کے پیچھے قید
اسیروں کے امور سے متعلق باوثوق اداروں کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں فلسطینی تاحال قابض اسرائیل کے تاریک زندانوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں، جن میں غزہ کے ہزاروں شہری بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی ایسے بدنصیب ہیں جن کے حراستی مراکز طویل عرصے تک راز بنے رہے اور ان کا کوئی اتہ پتہ نہ مل سکا۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات کے لیے نبردآزما ہیں کہ ان لاپتہ اسیروں کے انجام سے پردہ اٹھایا جائے، ان کے پیاروں کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور بین الاقوامی قوانین نیز جنیوا معاہدات کے اصولوں کے تحت ان کے ساتھ انسانی رویہ اپنانے کو یقینی بنایا جائے۔
جبر المجدلاوی کی یہ دلخراش پکار رہائی کی سطحی خوشی کو اجاگر کرنے میں ناکام رہی، بلکہ اس نے اس گہرے اور ناسور بنتے ہوئے سچ کو بے نقاب کر دیا جو اب بھی زندانوں کے اندر موجود اسیروں کا مقدر ہے۔ غزہ پہنچنے کے بعد چند ہی لمحوں میں ان کی آواز تو دھیمی پڑ گئی مگر ان کے خونچکاں بیانات نے اسیروں کے اس مقدس مقدمے کو ایک بار پھر دنیا کی ضمیر کی عدالت میں لا کھڑا کیا اور ان کی اذیتوں کے دائمی خاتمے کے لیے آوازوں کو مزید بلند کر دیا۔
