غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مصنوعی سیارے (سیٹلائٹ) کے ڈیٹا کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً دو سال اور نو ماہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود غزہ کی پٹی میں رات کی روشنی جنگ سے پہلے کی سطح کا محض 19 فیصد ہی باقی بچی ہے۔
ایک الگ مکانی (اسپیشل) تجزیے سے جس میں اسرائیلی کنٹرول کے تحت ’پیلا خط‘ کہلانے والے علاقے کو نکال دیا گیا تھا، یہ بات سامنے آئی ہے کہ باقی ماندہ علاقے میں دیکھی جانے والی روشنی جنگ سے پہلے کے ریفرنس پیریڈ کی سطح کا صرف 12 فیصد تھی۔
الجزیرہ کے مطابق روشنی اور بجلی کی اس شدید کمی کے باعث پٹی کے مکینوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں مختلف نوعیت کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ خیموں کے اندر پنکھے، ائیر کنڈیشنر، خوراک اور ادویات کو محفوظ رکھنے والے آلات چلانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، جبکہ مریضوں کو محدود طبی سہولیات اور امراضِ مزمنہ (پرانی بیماریوں) کے لیے ضروری علاج تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پانی کے کنویں، پمپنگ اسٹیشنز، اسپتال اور بیکریاں متاثر
یہ بحران صرف عام روشنی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی زد میں پانی کے کنویں، پمپنگ اسٹیشنز، اسپتال، بیکریاں اور مواصلاتی نیٹ ورکس بھی آ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ آلات کی کمی، کمزور انٹرنیٹ اور انہیں چارج کرنے کی مشکلات کی وجہ سے ہائیر سیکنڈری کے کئی طلباء اپنے امتحانات بھی بروقت دینے سے قاصر رہے۔
الجزیرہ نیٹ ورک کے اوپن سورس یونٹ نے اپنے اس تجزیے میں امریکی خلائی ادارے (ناسا) کے پروجیکٹ “بلیک ماربل” کے نائٹ لائٹ ڈیٹا کا استعمال کیا۔
اس تجزیے میں 28، 28 راتوں پر مشتمل مساوی مدتوں کا احاطہ کیا گیا، جس کی شروعات جنگ سے پہلے کے ریفرنس پیریڈ (9 ستمبر سے 6 اکتوبر 2023ء) سے لے کر 12 جون سے 9 جولائی 2026ء تک کے تازہ ترین تجزیاتی دورانیے تک کی گئی۔
روشنی میں یہ کمی اس بات کی غماز ہے کہ غزہ میں بجلی کا بحران محض اندھیرے کا نام نہیں ہے، بلکہ چونکہ پانی کے کنویں، پمپنگ اسٹیشنز، اسپتال، بیکریاں اور مواصلاتی نیٹ ورکس سب کے سب توانائی کے محتاج ہیں، اس لیے روشنی میں کمی بنیادی خدمات کے مکمل زوال کی ایک واضع علامت ہے۔
غزہ میں روزمرہ کی زندگی شدید متاثر
سیٹلائٹ کے یہ نتائج فلسطینی صحافی بیسان عودہ کی میدانی گواہی سے بھی بالکل مطابقت رکھتے ہیں، جنہوں نے غزہ کی پٹی میں بجلی کی غیرموجودگی کے روزمرہ زندگی پر پڑنے والے اثرات کو دستاویزی شکل دی تھی اور بتایا تھا کہ کس طرح توانائی سے متعلق ضروریات، جیسے کہ روشنی اور فون چارج کرنا، محدود اور غیر مستوکل ذرائع کے سائے میں ایک روزمرہ کا کٹھن چیلنج بن چکی ہیں۔
تجزیے سے یہ بات واضح ہوئی کہ جولائی کے رواں ماہ میں اسرائیلی کنٹرول کے علاقے سے باہر باقی ماندہ علاقوں میں ریکارڈ کی جانے والی کل روشنی غزہ کے رہائشی علاقوں کی جنگ سے پہلے کی روشنی کے تقریباً 12 فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔
بے گھر افراد کے مراکز کے اندر کی صورتحال یہ ہے کہ بجلی کی عدم موجودگی شدید گرمی، کیڑے مکوڑوں اور چوہوں کی بھرمار کے ساتھ بیک وقت جڑی ہوئی ہے، ایسے میں خاندان نہ تو روشنی کا انتظام کر سکتے ہیں اور نہ ہی ہوا کا، جس کی وجہ سے خیموں میں رہنا اور بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے اور رات کے وقت بچوں اور خاندانوں کو درپیش خطرات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹرز کی گواہیاں
غزہ کی بجلی تقسیم کار کمپنی کے توسط سے ڈاکٹروں کی طرف سے شائع کردہ گواہیوں سے یہ بات سامنے آئی کہ بجلی کی طویل کٹیگری کے اثرات صرف روشنی اور روزمرہ کی خدمات تک محدود نہیں رہے، بلکہ اس نے آبادی کی سلامتی اور مریضوں و زخمیوں کو بروقت طبی امداد ملنے کے بنیادی تقاضوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو “ایک جرم اور مریضوں کے حق میں سزائے موت کا حکم” قرار دیا۔
توانائی کی اس قلت کے اثرات پانی، نکاسی آب، صحت اور خوراک کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ مواصلاتی نیٹ ورکس تک پھیل گئے۔ مثال کے طور پر، جولائی 2026ء میں شیخ رضوان کے پانی کے پمپنگ اسٹیشن کو انجنوں کو چلانے کے لیے ضروری سامان کی قلت کی وجہ سے اپنے کام کے اوقات میں کمی کرنا پڑی، جس کے نتیجے میں بارش کے پانی کے جمع ہونے والے حوض کے اندر گندے پانی (سیوریج) کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) کے مطابق، انجن کے تیل کی ایک محدود مقدار پہنچنے کے بعد اس اسٹیشن نے دوبارہ روزانہ 12 سے 16 گھنٹے کام کرنا شروع کیا، جو پانی کی سطح کو برقرار رکھنے یا گھٹانے اور مزید ماحولیاتی خطرات سے بچنے کے لیے کم از کم مطلوبہ سطح ہے۔
خدمات اب بھی معطل
صحت کے شعبے میں خدمات کا ایک بڑا حصہ اب بھی معطل ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ جولائی 2026ء میں جنگ سے پہلے رجسٹرڈ صحت کی کل سروس پوائنٹس میں سے نصف سے بھی کم فعال تھے، اور طبی اداروں کے اندر آلات چلانے، ادویات کو محفوظ رکھنے اور پانی کی ترسیل کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پانی اور نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان، رسد کی کمی، نقل و حرکت کی پابندیوں کے ساتھ ساتھ ایندھن، انجن کے تیل، جنریٹرز اور خصوصی آلات کی مسلسل قلت کے نتیجے میں پرانی بیماریوں میں مبتلا تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار افراد کی بنیادی صحت کی خدمات اب بھی شدید طور پر متاثر ہیں۔
بجلی کی اس کمی کے اثرات تعلیمی شعبے پر بھی مرتب ہوئے، جہاں کل 37 ہزار رجسٹرڈ طلبا میں سے تقریباً 6 ہزار طلبا وسائل کی کمی، انٹرنیٹ کے کمزور سگنل اور امتحانات میں استعمال ہونے والے آلات کو چارج کرنے کے لیے توانائی کے ناکافی ذرائع کی وجہ سے سال 2026ء کے سیکنڈری اسکول (ثانویہ عامہ) کے امتحانات کے پہلے دن شرکت کرنے سے قاصر رہے۔
طلباء بجلی کی تلاش میں سرگرداں
سامنے آنے والی وڈیو فوٹیجز میں یہ دکھایا گیا کہ متعدد طلباء کو مجبوراََ بھری ہوئی کیفیز، خیموں اور ترپالوں سے ڈھکے ہوئے مقامات کے اندر موبائل فونز کا استعمال کرتے ہوئے اپنے آن لائن امتحانات دینے پڑے، تاکہ وہ شدید حبس، شور، گرمی اور تکنیکی مسائل کے بیچ بجلی اور انٹرنیٹ کا کوئی ذریعہ تلاش کر سکیں۔
تجزیے کے نتائج نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں غزہ کی پٹی کے اندر رات کی روشنی میں شدید کمی کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اگرچہ مصنوعی سیارے کا ڈیٹا بجلی کی بندش کو براہ راست نہیں ناپتا، تاہم یہ پٹی میں بجلی کے حقیقی اور زمینی بحران کی ایک واضح اور مصدقہ عکاسی ضرور کرتا ہے۔
