غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کے معاہدے کی لگاتار خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے منگل کے روز فجر کے وقت غزہ شہر پر کیے جانے والے بم حملے کے نتیجے میں ایک شہری، اس کی اہلیہ اور ان کے چار معصوم بچے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
ایک مقامی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ صیہونی طیاروں نے غزہ شہر کے حی الصبرہ میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ماں اور ان کے چار بچوں سمیت چھ شہری شہید ہو گئے۔
ذرائع نے تصدیق کی کہ شہداء میں فراس أحمد المصری، ان کی اہلیہ سلسبيل محمد علی المصری اور ان کے چار بچے نعيم، فريال، سلمى اور أميرہ شامل ہیں۔
چشم دید گواہوں نے بتایا کہ مکان میں بھڑکنے والی شدید آگ کی وجہ سے شہری دفاع کے عملے کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے ذکر کیا کہ فائر فائٹنگ کی ٹیموں نے غزہ میونسپلٹی کے عملے کے تعاون سے مکان میں لگی ہولناک آگ پر قابو پا لیا اور شعلوں کو قریبی گھروں تک پھیلنے سے کامیابی سے روک دیا۔
ادھر قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی میں شہر خان یونس کے مشرق میں فائرنگ کی، جبکہ اس دوران علاقے میں توپ خانے کی گولہ باری بھی کی گئی۔
آج صبح خان یونس کے مواصی علاقے میں بئر 19 کے قریب قابض فوج کی فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہو گیا۔
گذشتہ رات شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیا کیمپ کے اندر واقع “یمن السعيد ہسپتال” کی پہلی منزل پر ایک صیہونی ڈرون کے حملے کے نتیجے میں چار شہداء جامِ شہادت نوش کر گئے اور دیگر کئی زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ شہداء میں جميل حماد أبو شقفه، ان کی بچی نور، شيرين إسماعيل عيسى اور نور حمدی مطر شامل ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہے، جن میں بے گھر افراد کے علاقوں پر فضائی اور توپ خانے کی گولہ باری، نام نہاد زرڈ لائن کے اندر عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانا اور تباہ کرنا، اور سامان، امداد اور سفر کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد رکھنا شامل ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ سال 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1169 ہو چکی ہے، اس کے علاوہ 3756 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ آٹھ سو دو 802 لاشیں بھی نکالی جا چکی ہیں۔
اس کے علاوہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والے اس صیہونی جارحیت کی مجموعی ہلاکتیں 73283 شہداء اور 173875 زخمیوں تک پہنچ چکی ہیں، جو غزہ کی پٹی پر مسلط اس مسلسل جارحیت کے بھاری جانی نقصان کی عکاسی کرتی ہیں۔
