مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین میں چرچ امور کی اعلیٰ صدارتی کمیٹی نے مقبوضہ سرزمین پر فلسطینی مسیحیوں کی اصل موجودگی کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ یہ خطرات قابض اسرائیلی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں، زمینوں پر قبضے اور ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔
کمیٹی نے دنیا بھر کے کلیسائی سربراہان (چرچ لیڈروں) کے نام ایک پیغام میں اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے اس فیصلے کے خطرناک اثرات سے آگاہ کیا ہے جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں 34 نئی یہودی کالونیاں قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سے چھ کالونیاں بیت لحم کے ضلع میں قائم کی جائیں گی۔ مزید برآں، اس کالونی پروجیکٹ کے نفاذ، آباد کاروں کی منتقلی اور ضروری بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے 2.3 بلین شیکل سے زیادہ کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر مستقل حقائق مسلط کرنے کی ایک منظم حکمت عملی کا اگلا مرحلہ ہے، جس کا مقصد الحاق کے منصوبے کو مضبوط کرنا اور امن کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ بیت لحم کے ضلع میں، جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی، ان کالونیوں کے منصوبوں کا مقصد یہودی بستیوں کے بلاکس کو آپس میں جوڑنا اور بیت لحم، بیت جالا اور بیت ساحور کے شہروں کو ان کے فلسطینی ماحول سے الگ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، مزید زمینوں پر قبضہ کرنا شامل ہے، جس میں مسیحی فلسطینی خاندانوں کی ملکیتی زرعی زمینیں بھی شامل ہیں۔
کمیٹی نے زور دیا کہ یہ کالونی منصوبہ صرف شہری توسیع تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد مقبوضہ فلسطینی سرزمین کی جغرافیائی اور آبادیاتی حقیقت کو بدلنا ہے، تاکہ یہودی بستیوں کو سڑکوں اور خدمات کے نیٹ ورک کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑ کر ان کے وجود کو مستحکم کیا جا سکے۔
کمیٹی نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، اور کہا کہ یہ سال 2024ء میں عالمی عدالتِ انصاف کی جانب سے جاری کردہ مشاورتی رائے کے بھی منافی ہے۔
کمیٹی نے دنیا بھر کے چرچ لیڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی روحانی، تاریخی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھائیں اور یہودی بستیوں کی توسیع، الحاق کی پالیسیوں اور حقائق مسلط کرنے کے خلاف واضح موقف اختیار کریں۔
کمیٹی نے بین الاقوامی قانون کے دفاع، مقدس سرزمین کے تحفظ اور فلسطینی مسیحیوں کی اصل موجودگی کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا، تاکہ ایک منصفانہ امن قائم ہو سکے جو فلسطینی عوام کی آزادی، وقار اور ان کے جائز حقوق کی ضمانت دے سکے۔
