Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ کے القدس ہسپتال میں مشکلات کے باوجود 1000 سے زائد دل کے کیتھیٹرائزیشن آپریشن کامیابی سے انجام

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کے ماتحت القدس ہسپتال نے ایک نئی کامیابی درج کی ہے۔ ہسپتال کے کارڈیک کیتھیٹرائزیشن ڈیپارٹمنٹ نے اسے دوبارہ فعال کیے جانے کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایک ہزار سے زائد آپریشنز کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ شعبہ اس وقت غزہ کی پٹی میں کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کی واحد فعال مشین کے ذریعے اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے، جبکہ محاصرے اور طبی سامان کی قلت کی وجہ سے غزہ کے صحت کے شعبے کے وسائل انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔

ہسپتال نے اپنے جاری کردہ پریس بیان میں وضاحت کی کہ یہ آپریشنز محض اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ یہ تشخیص اور علاج معالجے کی ایسی مداخلتیں تھیں جنہوں نے سینکڑوں مریضوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان آپریشنز میں تشخیصی کیتھیٹرائزیشن، سٹینٹ (دعامات) لگانا، پیس میکر (دل کی دھڑکن کو منظم کرنے والے آلات) لگانا، اور غزہ اور جنوبی غزہ کے مرکزی ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے شعبوں (ICU) سے منتقل کیے گئے نازک ترین مریضوں کا فوری علاج شامل ہے جنہیں جان بچانے کے لیے فوری طبی مداخلت کی ضرورت تھی۔

القدس ہسپتال میں کارڈیک کیتھیٹرائزیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر احمد نصار نے کہا: ”آج ہم ایک ہزار آپریشنز مکمل ہونے کے بعد تیرہواں کیس کر رہے ہیں، اور یہ کامیابی غزہ کی پٹی میں اس وقت فعال واحد کیتھیٹرائزیشن مشین کے استعمال سے ممکن ہوئی ہے۔“

انہوں نے مزید کہا: ”محاصرے اور طبی سامان کی شدید قلت کے باوجود ہم اس تعداد تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اگر وسائل دستیاب ہوتے تو نہ کوئی انتظار کی فہرست ہوتی اور نہ ہی ہم آج اس تعداد پر ہوتے، بلکہ ہم اس سے کئی گنا زیادہ کام مکمل کر چکے ہوتے۔“

ڈاکٹر نصار نے نشاندہی کی کہ یہ شعبہ القدس ہسپتال کو دوبارہ فعال کرنے کے بعد 30 اگست سنہ 2025ء کو بحال کیا گیا تھا، اور تب سے اب تک ایک ہزار تیرہ سے زائد قلبی مداخلتیں کی جا چکی ہیں، جن میں تشخیصی کیتھیٹرائزیشن، سٹینٹ لگانا، اور پیس میکر لگانا شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان میں سے کئی کیسز انتہائی ہنگامی نوعیت کے تھے جنہوں نے مریضوں کی جانیں بچائیں۔

اس کامیابی کے باوجود چیلنجز بدستور برقرار ہیں۔ شعبے کو سٹینٹس، بیلونز اور طبی تاروں (وائرز) کی شدید قلت کا سامنا ہے، ساتھ ہی کیتھیٹرائزیشن مشین کے پرزہ جات کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جو مزید مریضوں کو قبول کرنے کی ہسپتال کی صلاحیت کو محدود کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر نصار نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ضروری طبی سامان دستیاب ہوتا تو یہ شعبہ سالانہ تقریباً تین ہزار آپریشنز کرنے کے قابل ہوتا اور ان مریضوں کی انتظار کی فہرستوں کو ختم کر سکتا تھا جن میں اس وقت تقریباً پانچ سو مریض شامل ہیں، جنہیں اپنے علاج کا راستہ متعین کرنے کے لیے تشخیصی کیتھیٹرائزیشن کی اشد ضرورت ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan