غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نےاس بات پر زور دیا ہے کہ قابض اسرائیل جنگ بندی معاہدے سے مکمل طور پر انکاری ہے اور غزہ کی پٹی میں جنگ اور محاصرے کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حماس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ قابض دشمن غزہ کے مختلف علاقوں میں اپنی وحشیانہ جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض دشمن کی تازہ ترین سفاکیت کے نتیجے میں کم از کم پانچ شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ منظر ایک بار پھر جاری نسل کشی کی وحشت ناک تصویر پیش کرتا ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے ثالثوں اور معاہدے کی ضمانت دینے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف جاری ان روزمرہ کے قتل عام کو روکنے کے لیے اپنی قانونی اور سیاسی ذمہ داریوں کے تحت فوری قدم اٹھائیں۔ جماعت نے مطالبہ کیا کہ جنگی مجرم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کو معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کا پابند بنایا جائے۔
حماس نے دنیا بھر کے آزاد انسانوں پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام اور ان کے منصفانہ نصب العین کی حمایت میں اپنی یکجہتی کی سرگرمیوں کو تیز کریں۔ تحریک نے مطالبہ کیا کہ قابض دشمن اور اس کے حامیوں پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ اس صدی کے سب سے بڑے جرم کو روکا جا سکے اور دشمن کے خلاف مکمل بائیکاٹ نافذ کیا جائے تاکہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف اپنے جاری جرائم اور جارحیت کی بھاری قیمت چکائے۔
واضح رہے کہ کے روز قابض صہیونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر حملوں کے نتیجے میں پانچ فلسطینی شہری شہید ہوئے ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، دس اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد ایک ہزار ایک سو ستائیس تک پہنچ چکی ہے، جبکہ تین ہزار چھ سو سولہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ آٹھ سو افراد کی لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی مجموعی جارحیت میں اب تک تقریباً تہتر ہزار دو سو پچاس فلسطینی شہید اور ایک لاکھ تہتر ہزار سات سو ستائیس افراد زخمی ہو چکے ہیں، جو اس جاری جارحیت کی بھاری انسانی قیمت کو ظاہر کرتے ہیں۔
