Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کرنے والے طلبہ مغربی کیمپسز میں نشانے پر

لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانوی یونیورسٹیاں جو غزہ کی پٹی میں نسل کشی کی جنگ کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے وسیع مراکز بن چکی تھیں، اب فلسطینی کاز کے گرد جاری سیاسی محاذ آرائی سے محفوظ نہیں رہی ہیں۔

طلبہ کے دھرنوں اور احتجاج کے مہینوں بعد،الجزیرہ چینل اور ’لبرٹی انویسٹی گیٹس‘ تنظیم کی ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ سے فلسطینی حامی طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائیوں میں بے مثال اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ مبصرین اسے مغربی تعلیمی حلقوں میں قابض اسرائیل کی جانب سے کھویا ہوا اثر و رسوخ بحال کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

سیکڑوں طلبہ کے خلاف تحقیقات اور سزائیں

تحقیقات کے مطابق 42 برطانوی یونیورسٹیوں نے فلسطینی سرگرمیوں میں شرکت کی وجہ سے 236 طلبہ اور ملازمین کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ کنگز کالج لندن اس فہرست میں سرفہرست ہے جس نے کم از کم 26 تادیبی تحقیقات کی ہیں، اس کے بعد کالج لندن یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی اور کارڈف یونیورسٹی کا نمبر آتا ہے۔

ان کارروائیوں میں باضابطہ انتباہ، تعلیمی معطلی، طویل تحقیقات اور تعلیمی سزائیں شامل ہیں، اس کے علاوہ ان طلبہ کا تعاقب کیا گیا جنہوں نے دھرنوں میں حصہ لیا یا غزہ کی پٹی کے ساتھ یکجہتی کے پروگرام منعقد کیے۔

یکجہتی سے جوابدہی تک

تحقیقات نے متعدد کیسز پر روشنی ڈالی، جن میں طالبہ خدیجہ کا کیس بھی شامل ہے، جنہیں پانچ ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے واٹس ایپ پر اپنے ایک گروپ میں اس بات پر ناراضی کا اظہار کیا تھا کہ ان کے ایک لیکچرار ماضی میں قابض اسرائیل کی فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

اگرچہ طلبہ کی طرف سے جن احتجاجی مظاہروں پر بات کی گئی تھی وہ عملی طور پر نہیں ہوئے، تاہم یونیورسٹی نے انہیں باضابطہ انتباہ جاری کیا، انہیں ایک مضمون لکھنے کا پابند کیا اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹتے، انہیں برطانوی انسداد انتہا پسندی پروگرام ’پریوینٹ‘ میں بھیجنے کے امکان پر بھی غور کیا تھا۔

یہ کارروائیاں ان طلبہ کے خلاف بھی کی گئیں جنہوں نے عسکری صنعتوں سے منسلک کمپنیوں سے یونیورسٹی کی سرمایہ کاری واپس لینے کے مطالبے کے لیے دھرنوں میں حصہ لیا۔ اسی طرح مصری طالبہ اسامہ غانم کو غیر معینہ مدت کے لیے تعلیم سے معطل کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ان کا تعلیمی ویزا منسوخ ہو گیا اور انہیں ملک بدری کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔

اثر و رسوخ بحال کرنے کے لیے ’جوابی حملہ‘

فلسطینی یورپی کونسل برائے سیاسی تعلقات کے سربراہ ماجد الزیر کا ماننا ہے کہ برطانوی یونیورسٹیوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے مغربی عوامی رائے میں نسل کشی کی جنگ سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

الزیر نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ قابض اسرائیل کو جنگ کے دوران بے مثال تزویراتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، خاص طور پر ان دور دراز مغربی ممالک میں جنہیں روایتی طور پر اس کا سب سے زیادہ حامی سمجھا جاتا تھا، انہوں نے نشاندہی کی کہ ان نقصانات کا ایک حصہ ناقابل تلافی ہو چکا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ قابض اسرائیل جس نے اس جنگ کو ایک وجودی لڑائی سمجھا اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے بعد،مغربی اداروں، خاص طور پر یونیورسٹیوں اور اکیڈمیوں کے اندر اپنا امیج بہتر کرنے اور اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کر رہا ہے۔ اس کے لیے وہ اپنے قریبی عناصر اور شخصیات کی مدد لے رہا ہے جنہوں نے جنگ کے دوران خاموشی اختیار کی تھی۔

اثر و رسوخ کے مراکز کو نشانہ بنانا

الزیر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آج برطانیہ، مغربی یورپ کے کئی ممالک اور امریکہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ایک ’جوابی جنگ‘ کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد فلسطینی کاز کی حمایت میں بڑھتی ہوئی عوامی لہر کو روکنا ہے۔

وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ کوششیں طلبہ تحریک کے اندر طاقت کے ذرائع کی نشاندہی کرنے اور مظاہروں کی قیادت کرنے والے افراد کو جاننے پر مرکوز ہیں تاکہ ان کے اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے اور یونیورسٹیوں کے اندر یکجہتی کی تحریک کو کمزور کیا جا سکے۔

ایک نئی حقیقت جسے واپس پلٹنا مشکل ہے

دباؤ اور تادیبی کارروائیوں میں اضافے کے باوجود الزیر کا ماننا ہے کہ یہ کوششیں منظرنامے کو جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں لا سکیں گی۔

وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ فلسطینی کاز نے حالیہ برسوں کے دوران مغربی معاشروں میں بے مثال گہرائی حاصل کی ہے۔ اس کی حمایت اب صرف طلبہ یا انسانی حقوق کی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ سیاسی اداروں، جماعتوں اور انتخابی منشوروں تک پھیل گئی ہے۔

الزیر برطانوی سیاسی میدان میں ہونے والی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہیں، جہاں فلسطین سے متعلق موقف برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے جانشین کے امیدواروں کے پروگراموں کا حصہ بن چکا ہے۔ وہ اسے ایسی سیاسی تبدیلی قرار دیتے ہیں جسے قابض اسرائیل کے لیے روکنا یا واپس پلٹنا مشکل ہے۔

الزیر اپنی بات کا اختتام اس یقین کے ساتھ کرتے ہیں کہ فلسطینی حامی طلبہ کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں مغرب کے اندر بیانیے اور اثر و رسوخ کے لیے جاری کشمکش کے ایک پہلو کی نمائندگی کرتی ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ اس تبدیلی کے حجم کو بھی ظاہر کرتی ہیں جو نسل کشی کی جنگ نے مغربی شعور میں پیدا کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی کاز کے لیے عوامی اور سیاسی حمایت اب زیادہ مستحکم ہو چکی ہے، اور اسے روکنے کی کوششیں، خواہ کتنی ہی تیز کیوں نہ ہوں، وقت کا پہیہ پیچھے گھمانے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan