برسلز – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جرمن حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کے پس منظر میں اسرائیل پر یورپی یونین کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ تادیبی اقدامات کے بجائے اسرائیلی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کو ترجیح دیتی ہے۔
جرمن وزیر خارجہ یوہان فادیفول نے برسلز میں پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اسرائیلی حکومت کے ساتھ موثر بات چیت پر انحصار کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر کسی بھی قسم کی پابندی یا ممکنہ ممانعت کے لیے یورپی یونین کے تمام ممالک کا اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔
جرمنی کا یہ موقف ایسی پابندیوں کی منظوری کے امکانات کو پیچیدہ بنا دے گا، کیونکہ جرمنی یا اتفاق رائے کی شرط پر زور دینے والے کسی بھی دوسرے ملک کی مخالفت ان اقدامات کو اختیار کرنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
جرمنی کا یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین میں اسرائیلی بستیوں کی پالیسی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر مہینوں سے مسلسل اختلاف پایا جاتا ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ بستیاں بسانا بین الاقوامی قانون کے منافی ہے، لیکن وہ اب تک وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کرنے پر متفق ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
یورپی کمیشن نے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل اسرائیل پر ممکنہ تجارتی پابندیاں عائد کرنے سے متعلق آپشنز کا ایک سیٹ تیار کیا تھا، تاہم جرمن موقف نے ان اقدامات پر فوری اتفاق رائے کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔
دوسری جانب، تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے حامی ایک مختلف قانونی تشریح پر انحصار کر رہے ہیں جو رکن ممالک کے اتفاق رائے کے بغیر ان کے نفاذ کی اجازت دیتی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے متضاد قانونی تشریحات موجود ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یورپی یونین کی کونسل کے قانونی شعبے کا ماننا ہے کہ ان کی منظوری کے لیے کوالیفائیڈ اکثریت درکار ہے، یعنی 27 میں سے 15 ممالک کی منظوری، جو یورپی یونین کی کل آبادی کا کم از کم 65 فیصد نمائندگی کرتے ہوں۔
اگرچہ جرمن وزیر خارجہ نے پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کی ہے، تاہم انہوں نے اسرائیلی بستیوں کی پالیسی پر اپنے ملک کی تنقید کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی کو توقع ہے کہ اسرائیلی حکومت مغربی کنارے میں تشدد میں ملوث یہودی آباد کاروں کے خلاف سخت اقدامات کرے گی۔
