Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

پناہ گاہوں میں طبی سہولیات کی کمی، غزہ کے بے گھر افراد مشکلات کا شکار

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین ’انروا‘ نے غزہ کی پٹی میں پناہ گزین مراکز میں صحت اور ماحولیاتی حالات کے مسلسل انحطاط پر خبردار کیا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ آدھے سے زیادہ بے گھر خاندان ایسی حالات میں رہ رہے ہیں جو گندے پانی اور آلودہ جوہڑوں کے پھیلاؤ کی وجہ سے ان کی جانوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

ایجنسی نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ 52 فیصد بے گھر خاندان ایسے علاقوں میں مقیم ہیں جہاں پناہ گزین مراکز کے قریب گندا پانی اور کھڑا ہوا آلودہ پانی پھیلا ہوا ہے، جو بنیادی خدمات کے مسلسل انہدام کے درمیان بیماریوں اور وباؤں کے پھیلاؤ کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔

’انروا‘ نے نشاندہی کی کہ 64 فیصد خاندانوں نے بتایا ہے کہ ان کے بچے ماحولیاتی آلودگی اور صحت کی خستہ حالی کے نتیجے میں جلد کی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت ہے اور پانی و نکاسی آب کی خدمات میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

’انروا‘ نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی بحران نقل مکانی کے تسلسل اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے ساتھ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ایجنسی نے طبی امداد، ایندھن اور بنیادی خدمات کی فراہمی جاری رکھنے اور آبادی کے درمیان بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

لاکھوں فلسطینی عارضی پناہ گاہوں اور بے گھری کے کیمپوں میں رہ رہے ہیں جہاں زندگی گزارنے کی کم سے کم سہولیات بھی میسر نہیں، جبکہ پانی اور نکاسی آب کا نیٹ ورک اور صحت کا نظام بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے مسلسل متعدی بیماریوں اور غذائی قلت کے خطرے سے خبردار کر رہے ہیں، خاص طور پر بچوں کے درمیان، کیونکہ قابض اسرائیل کی طرف سے انسانی امداد کے داخلے پر عائد پابندیاں جاری ہیں، جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں صحت اور ماحولیاتی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

’قابض اسرائیل آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء سے امریکی اور یورپی حمایت کے ساتھ غزہ کی پٹی میں نسل کشی کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں قتل و غارت، بھوک، تباہی، نقل مکانی اور گرفتاریاں شامل ہیں۔ یہ سب کچھ عالمی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔

اس نسل کشی کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ چھیالیس ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس کے علاوہ گیارہ ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں، اور قحط نے بہت سے لوگوں، بالخصوص بچوں کی جان لے لی ہے، جبکہ پٹی کے بیشتر شہر اور علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan