مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے خطیب اور مفتی بیت المقدس شیخ محمد حسین کو ایک حکم نامہ جاری کیا ہے، جس کے تحت انہیں سات دنوں تک مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔
اہلِ بیت المقدس کے ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج کے اہلکاروں نے شیخ محمد حسین کو مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر روکا اور انہیں زبردستی مقبوضہ بیت المقدس میں قائم اپنے ایک تفتیشی مرکز میں لے گئے۔
چند گھنٹوں کی حراست کے بعد قابض حکام نے شیخ محمد حسین کو رہا تو کر دیا، تاہم انہیں ایک ہفتے کے لیے مسجد اقصیٰ سے دور رہنے کا حکم نامہ تھما دیا۔
قابض حکام مسلسل مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی شخصیات اور مرابطین (محافظوں) کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سنہ 2026ء کے پہلے نصف کے دوران قابض اسرائیل نے 762 بے دخلی کے فیصلے جاری کیے، جن کا بنیادی ہدف مسجد اقصیٰ اور پرانا شہر تھا۔
بے دخلی کے یہ ظالمانہ فیصلے مرابطین، مسجد اقصیٰ کے محافظوں، رہا ہونے والے اسیران، صحافیوں، سماجی کارکنوں، مسجد اقصیٰ کے شیوخ، اماموں اور وہاں کام کرنے والے ملازمین تک پھیلے ہوئے ہیں، جو دراصل مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی موجودگی کو ختم کرنے کی ایک گھناؤنی مہم کا حصہ ہے۔
