رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) تنظیم ‘ڈاکٹرز فار ہیومن رائٹس’ نے کہا ہے کہ غزہ کے 14 فلسطینی ڈاکٹروں کی رہائی کے لیے سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر اسرائیلی حکومت کا جواب قید ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی صحت کی حالت کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ تنظیم نے تصدیق کی کہ حکومت نے ان کی صحت سے متعلق الزامات کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
ایک بیان میں تنظیم نے وضاحت کی کہ اسرائیلی حکومت نے اپنے جواب میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک اندرونی جائزے سے ڈاکٹر ابو صفیہ کی زندگی کو کوئی خطرہ ظاہر نہیں ہوا۔ تاہم، حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں ‘نیتسان’ جیل کے زیر زمین ‘راکیفت’ سیکشن میں منتقل کرنے کے بعد جو متعدد طبی معائنے کیے گئے، ان کی وجوہات یا نتائج کیا تھے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ حکومت نے ان الزامات کو یکسر نظر انداز کر دیا جو ڈاکٹر ابو صفیہ کے وکیل ناصر عودہ نے حلف نامے میں درج کروائے تھے۔ ان الزامات کے مطابق، ڈاکٹر ابو صفیہ کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے انہیں سر اور گردن میں چوٹیں آئیں، سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے اور وہ بار بار بے ہوش ہو رہے ہیں، جبکہ انہیں اپنی جان کا شدید خطرہ لاحق ہے۔
تنظیم نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی حکام نے اب تک وکیل کو اپنے موکل سے دوسری ملاقات کی اجازت نہیں دی، نہ ہی ڈاکٹر ابو صفیہ کی میڈیکل فائل فراہم کی اور نہ ہی کسی آزادانہ طبی معائنے یا دورے کی اجازت دینے کے مطالبے کا کوئی جواب دیا ہے۔
اس تناظر میں اسرائیلی حکومت نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ 14 فلسطینی ڈاکٹروں کی رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست کو مسترد کر دیا جائے اور بغیر کسی سماعت کے خارج کر دیا جائے۔
تنظیم نے اس موقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی الزام یا مقدمے کے ڈاکٹروں کو قید رکھنا غزہ میں طبی عملے کے بحران کو مزید سنگین بناتا ہے اور بنیادی قانونی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کا فوری طور پر آزادانہ طبی معائنہ کرایا جائے اور ان کی حالت کا عدالتی جائزہ لینے کے لیے ہنگامی سماعت کی جائے۔
