غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی سینٹر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے غزہ میں مصری کمیٹی کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر محمد الوحیدی کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ میں جاری نسل کشی اب خوشی کے لمحات اور انہیں پیدا کرنے والوں تک کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔
مرکز نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ محمد الوحیدی اور دیگر شہریوں کی شہادت کے واقعے کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ مرکز نے نشاندہی کی کہ یہ حملہ عالمی کپ کے دوران ‘مصر بمقابلہ ارجنٹائن’ فٹ بال میچ کے دوران کیا گیا، جبکہ الوحیدی عوام کے لیے میچ دکھانے کے مقامات کو تیار کرنے کی نگرانی کر رہے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ شدید خدشات پیدا کرتا ہے کہ قابض فوج صرف فلسطینیوں کو قتل کرنے پر اکتفا نہیں کر رہی، بلکہ کسی بھی ایسی سرگرمی یا شخص کو بھی ختم کر رہی ہے جو محصور آبادی کے لیے تفریح یا معمول کی زندگی کا ایک محدود سا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد فلسطینیوں کو خوف اور محرومی کے مستقل احساس میں مبتلا کرنا ہے۔
مرکز کے مطابق قابض فوج ڈرون اور جنگی طیاروں کے ذریعے شہریوں کے اجتماعات اور پناہ گزینوں کے خیموں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے، جس سے شہری زندگی کے باقی ماندہ آثار بھی تباہ ہو رہے ہیں۔ امدادی کارکنوں، پولیس افسران اور شہریوں کا مسلسل قتل اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد دہشت پھیلانا ہے۔
فلسطینی سینٹر برائے انسانی حقوق نے زور دیا کہ یہ منظم پالیسی غزہ میں زندگی کے تمام عناصر کو تباہ کرنے اور انسانی بقا کو ناممکن بنانے کے لیے جاری ہے۔ یہ تمام جرائم نسل کشی کے ٹھوس ثبوت ہیں جو صرف افراد کو نہیں بلکہ پوری فلسطینی موجودگی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
مرکز نے عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی شہریوں کے قتلِ عام کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کرے، بین الاقوامی تحفظ فراہم کرے اور اسرائیلی رہنماؤں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، تاکہ ان جرائم کے تسلسل اور استثنیٰ کا خاتمہ کیا جا سکے۔
