دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے امریکی پریسبٹیرین چرچ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں قابض اسرائیل کے بائیکاٹ اور اسے ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ انصاف اور انسانیت کی اقدار سے ہم آہنگ ہے اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کے حوالے سے اخلاقی ذمہ داری کا اظہار ہے۔
تحریک نے پریس بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قابض اسرائیل غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کر رہا ہے۔
حماس نے امریکی پریسبٹیرین چرچ کی جانب سے غزہ کی پٹی پر جنگ کو “نسل کشی” کے زمرے میں قرار دینے کے فیصلے کو بھی سراہا ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم پر قابض اسرائیل کا احتساب کرنے کے معاملے میں عالمی برادری کی جانب سے غفلت برتی جا رہی ہے۔
حماس نے ان تمام فیصلوں اور اقدامات کی تعریف کی جو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے میں معاون ثابت ہوں، اور مذہبی و سیاسی اداروں سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے رہائشیوں کی مدد کے لیے فوری حرکت میں آئیں اور نسل کشی کی جنگ جاری رکھنے کے لیے قابض حکومت کے مذموم منصوبوں کو بے نقاب کریں۔
امریکہ میں پریسبٹیرین چرچ ملک کے سب سے بڑے پروٹسٹنٹ فرقوں میں سے ایک ہے، جو سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ یہ چرچ ایک ایسے جمہوری نظام کا حامل ہے جو اس کی جنرل اسمبلی کو بین الاقوامی مسائل پر سرکاری موقف اختیار کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
گذشتہ دہائیوں کے دوران، چرچ نے فلسطینی مسئلے کے حوالے سے انسانی حقوق پر مبنی نقطہ نظر اپنایا ہے، جس کی بنیاد سماجی انصاف کے اصول، یہودی آباد کاری کی مخالفت اور انسانی حقوق کی حمایت پر ہے۔ اسی وجہ سے یہ امریکی مذہبی اداروں میں سے ایک ایسی تنظیم بن گیا ہے جو اسرائیلی پالیسیوں پر سب سے زیادہ تنقید اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرتی ہے۔
صدارتی کمیٹی نے اعلان کیا کہ پریسبٹیرین چرچ کی 227ویں جنرل اسمبلی نے یہ فیصلہ 15 کے مقابلے میں 454 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کیا۔
امریکی پریسبٹیرین چرچ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس 22 جون سے 2 جولائی سنہ 2026ء تک امریکی ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی میں منعقد ہوا۔
جنرل اسمبلی نے قابض اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد پر امریکی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہتھیاروں کا مسلسل بہاؤ فلسطینی شہریوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کے دورانیے کو طویل کرنے کا باعث بن رہا ہے۔
